https://goo.gl/hVihEx
جدہ (نیوز ڈیسک) سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو سعودائزیشن کےنام پر ایک کے بعد ایک شعبے سے نکال کر ان کی جگہ سعودی شہریوں کو بھرتی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب یہ سلسلہ گولڈ و جیولری کے شعبے تک بھی پہنچ گیا ہے۔جس میں کام کرنے والے تمام غیر ملکیوں کو نکال کر ان کی جگہ سعودی شہریوں کو رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیاہے۔
عرب نیوز کے مطابق مملکت کے سات انتظامی خطوں نے گولڈ و جیولری کی مارکیٹ کی ملازمتیں سعودی شہریوں کے حوالے کرنے کے عزم کا اظہار کردیا ہے۔یہ پیشرفت سعودی وزارت محنت و سماجی ترقی کی جانب سے دو ہفتے قبل کئے گئے ایک اہم فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ متعدد دیگر شعبوں کے بعد گولڈ و جیولری مارکیٹ سے بھی غیر ملکیوں کو نکال کر سعودی شہریوں کو ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔اس فیصلے پر عملدرآمد کے عزم کا اظہار کرنے والے خطوں میں قسیم، تبوک، نجران، باحا، اثیر، شمالی سرحد اور جازان شامل ہیں۔ سعودی عرب کے کل 13 انتظامی خطوں میں سے ان سات میں گولڈ و جیولری مارکیٹ میں سعودی شہریوں کی بھرتی کیلئے اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب میں 6000 سے زائد گولڈ و جیولری شاپس میں لگ بھگ 35 ہزار غیر ملکی کام کرتے ہیں۔ لیبر انسپکٹروں نے پہلے ہی ان دکانوں کے معائنے کی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔آنے والے دنوں میں ان اقدامات میں تیزی آئے گی جبکہ گولڈ و جیولری شاپس پر سعودی شہریوں کو ملازمتیں دلوانے کے لئے ان کی خصوصی تربیت کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
Urdu Khabrain
Thursday, 18 January 2018
سعودی نے پاکستانیوں سمیت دوسرے غیر ملکیوں پر بجلی گرادی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment