Tuesday, 9 January 2018

گن پوائنٹ پر شادی

https://goo.gl/Yhukdk
اپنے انداز کی نئی شادی شادی کے موقع پر آپ نے دلہن کو تو روتے دیکھا ہو گا لیکن دولہے کو زار و قطار آنسو بہاتے شاید کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔یہ بھارتی شہر پٹنہ کے ایک گاؤں میں ہونے والی شادی کا احوال ہے جہاں دولہے نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا جبکہ دلہن کی رشتہ دار خواتین اپنی ساڑھیوں سے اس کے آنسو پونچھتی رہیں۔

بظاہر تو یہ معاملہ مضحکہ خیز لگتا ہے لیکن اس دولہے کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو اس کا رونا ہی بنتا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ ونود کمار نامی یہ نوجوان نالندہ ڈسٹرکٹ میں اپنے ایک دوست کی شادی پر گیا ہوا تھا ۔وہاں ایک فیملی نے اس میں کافی دلچسپی لی لیکن بیچارے ونود کے وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ آگے کیا ہونے والا تھا۔ وہ دوست کی شادی سے فارغ ہوا ہی تھا کہ اسی فیملی کے کچھ مردوں نے اسے اسلحے کے زور پر اغواءکر لیا۔ وہ اسے ایک گاؤں لے گئے جہاں ان کے پہنچتے ہی ڈھول بجنا شروع ہو گئے اور لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ اب ونود کو معلوم ہوا کہ اس کی شادی ہو رہی تھی۔ جب اس نے زبردستی کی شادی سے انکار کیا

تو اس کی خاصی پٹائی بھی کی گئی، جس پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ زارو قطار آنسو بہا رہا ہے اور دلہن کی رشتہ دار خواتین اس کے آنسو پونچھ رہی ہیں۔دراصل یہ شادی کی ایک قدیم قسم ہے جو صدیوں پرانے قبائل میں عام پائی جاتی تھی۔ بدقسمتی سے بھارت میں جہالت کا یہ عالم ہے کچھ علاقوں میں آج بھی لوگ لڑکے کو بزور اسلحہ اغواءکر کے زبردستی اپنی لڑکی سے اس کی شادی کروا دیتے ہیں۔ عام طور پر اس مقصد کے لئے کسی خوش شکل اور اچھے خاندان کے لڑکے کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ بدقسمت ونود بھی ایک سرکاری کمپنی بوکارو سٹیل پلانٹ میں جونئیر انجینئر کے عہدے پر فائز ہے اور اس کا تعلق کھاتے پیتے گھرانے سے ہے۔نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کیجئیے اگر آپ کو ہماری پوسٹ پسند آئی تو دوستوں کے ساتھ ضرور شئیر کریں ۔

جماع کا بہترین وقت یہ ہے کہ جماع غذا کہ ہضم ہونے کے بعد کیا جائے بدن میں اعتدال ہو نہ گرمی ہو نہ ٹھنڈک نہ خشکی ہو اور نہ رطوبت نہ امتلاءشکم ہو اور نہ شکم بالکل خالی ہو البتہ پر شکم ہو کر جماع کرنے سے جو ضرر ہوتا ہے وہ خالی پیٹ جماع کرنے سے ہونے والے ضرر کے مقابل کمتر ہوتا ہے

شادی کی تقریبات میں ولیمےایک ایسا عمل ہےجو مسنون ہے،یعنی نبیؐ نے اس کا حکم دیا ہے اور آپ نے خود بھی اپنی شادیوں کا ولیمہ کیا ہے.اس کا سب سے بڑا مقصد اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اللہ نے زندگی کے ایک نہایت اہم اور نئے موڑ پر مدد فرمائی

اور اسے ایک ایسا رفیق حیات اور رفیق سفر عطا فرمادیا ہے جو اس کے لیے تفریح طبع اور تسکین خاطر کا باعث بھی ہوگا اور زندگی کے نشیب وفراز میں اس کا ہم دم،ہم درداور مدد گاربھی ہوگا. حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ دونوں کےساتھ نکاح کے بعد جب رسول اللہؐ نے خلوت فرمائی تو احادیث میں

صراحت ہے کہ اس کے بعد دوسرے دن آپؐ نے ولیمہ کی دعوت کی. اس سے اسی بات کا اثبات ہوتا ہے کہ ولیمہ نکاح سے پہلے نہیں ہے، بلکہ نکاح کے بعدہونا چاہیے. البتہ شب باشی کے بعد دوسرے روز ہی ضروری نہیں بلکہ دو تین دن کے وقفے کے بعد بھی جائز ہے.علاوہ ازیں ولیمے سے قبل خلوت صحیحہ بھی ضروری ہے یا نہیں یا اس کے بغیر ولیمہ جائز ہے؟

بعض لوگ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ہم بستری سے پہلے ولیمہ جائز نہیں ہے، لیکن ایسا سمھجنا صحیح نہیں ہے ، کیوں کہ بعض دفعہ پہلی رات کو جب خلوت میں میاں بیوی کی ملاقات ہوتی ہے تو عورت کے حیض کےایام ہوتے ہیں، اس لیے ایسی حالت میں بوس و کنار سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا

نیز کسی اور وجہ سے بھی بعض دفعہ ہم بستری نہیں ہو پاتی. اس لیے ولیمے کی صحت کے لیے ہم بستری کولازم خیال کرنا صحیح نہیں ہے ،مخصوص قسم کے حالات میں اس کے بغیر بھی ولیمہ صحیح ہوگا.

اسی طرح کثرت رطوبت کے موقع پر جماع کرنے سے جو ضرر ہوگا وہ برودت کے وقت جماع کرنے سے ہونے والے ضرر سے کم ہوگا اور حرارت بدن کے وقت جماع برودت کے وقت کئے جانے والے جماع سے کم نقصان دہ ہوگا آدمی کو پوری طرح جوش اور شہوت کے وقت ہم بستر ہونا چاہیے

کہ آدمی کا عضو تناسل پوری طرح ایستادہ ہو اور اس استادگی میں کسی تکلف اور کسی تخیل صورت کو دخل نہ ہو اور نہ بار بار عورت کو دیکھنے کے باعث ہوئی ہو اور یہ بھی مناسب نہیں کہ خواہ مخواہ شہوت جماع کو ابھارے اور خود کو بلا ضرورت اس میں مشغول کرے البتہ اگر کثرت منی ہو

استادگی پوری ہو اور شہوت بھی پورے طور پر ہو اور جماع کرنے کی غیر معمولی خواہش ہو تو جماع کرنا چاہیے ایسی بوڑھی عورتوں اور کمسن لڑکیوں سے جماع نہ کریں جن سے لوگ عادتاً جماع نہیں کرتے یا ایسی عورت جس کو خواہش جماع نہ ہو مریضہ ہو بدشکل نفرت انگیز عورتوں سے جماع کرنے سے قوی جسمانی کمزور ہوتے ہیں اور یوں بھی جماع کی خاصیت ضعف پیدا کرنا ہے اور بعض اطباءکا جو یہ خیال ہے کہ شادی شدہ عورتوں سے جماع کرنا کنواری لڑکیوں سے زیادہ مفید اور صحت کے لئے نفع بخش ہے ان کا یہ خیال بالکل غلط ہے اور ان کا یہ قیاس مبنی بر فساد ہے اس سے بہتیروں نے گریز کیا اور یہ بات عقلاءاور دانشوروں کے خلاف ہے اور اس پر طبیعت وشریعت کا بھی اتفاق نہیں۔

کنواری عورتوں سے جماع کرنے میں عجیب خاصیت ہے اس عورت اور اس سے جماع کرنے والے مرد کے درمیان گہری محبت پیدا ہوجاتی ہے عورت کا دل شوہر کے پیار ومحبت سے لبریز ہوتا ہے اور وہ دونوں کی محبت کے درمیان کوئی دیوار حائل نہیںہوتی اور یہ تمام لذت ومحبت شادی شدہ عورت میں پائی نہیں جاتی۔ چنانچہ نبی اکرمﷺنے خود حضرت جابر ؓسے فرمایا کہ کیوں نہیں تونے کسی کنواری عورت سے شادی کرلی اور اللہ سبحانہ وتعالی نے جنت میں جن حوروں کی ازدواجی تعلق کے لئے رکھ چھوڑا ہے وہ کنواری ہوںگی کسی نے ان کو چھوا بھی نہیں ہوگا

صرف وہی جنت میں چھو سکیں گے جن کے حصے میں وہ آئیں گی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ اگر آپ کا گزر ایسے درخت سے ہو جس میں اونٹ چرگیا ہو اور ایسے دوسرے درخت سے گزر ہو جس میں سے ابھی کسی اونٹ نے منہ نہ لگایا ہو تو ان دونوں میں سے اپنے اونٹ کو آپ کہاں چرانا پسند کریں گے؟ آپ نے فرمایا جس میں ابھی تک کسی اونٹ نے منہ نہ لگایا ہو۔اس تمثیل سے مراد وہ کنواری لڑکی ہے جس کو ابھی تک کسی مرد نے ہاتھ نہ لگایا ہو وہ میںہی ہوں۔ کسی پسند یدہ عورت سے جماع کرنے کے بعد کثرت منی کے استفراغ کے باوجود بدن میں کمتر کمزوری کااحساس ہوتا ہے اور قابل نفرت ناپسند عورت سے جماع کرنے کے بعد بدن کو بے حد کمزوری کا احساس ہوتا ہے گو کہ استفراغ منی کم ہو اور حائضہ عورت سے جماع کرنا فطرت وشریعت دونوں کے خلاف ہے اور نہایت ضرررساں ہے تمام اطباءاس سے کلی طور پر پرہیز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

جماع کی سب سے عمدہ صورت یہ ہے کہ مرد عورت کے اوپر ہو اور ملاعبت اور بوسہ بازی کے بعد عورت کو چت لٹا کر اس سے جماع کرے اسی وجہ سے عورت کو فراش کہتے ہیں خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”الولد للفراش“ یعنی لڑکا عورت کے لیے ہے یہاں عورت کو فراش سے تعبیر کیا گیا اور یہ مرد کا عورت پر مکمل حاکمیت کو ثابت کرتا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے:

”مرد عورتوں پر حاکم مقرر کئے گئے ہیں“۔

اور اللہ نے فرمایا: ”وہ (عورتیں) تمہارے لیے لباس ہیں اور تم (مرد) ان کی پوشش ہو“۔

اور اس انداز میں جمع کرنے سے لباس کا معنی پورے طور پر صادق آتا ہے اس لیے کہ مرد فراش اس کے لیے لباس ہے اور اسی طرح عورت کا لحاف اس کا لباس ہے غرض جماع کا یہ عمدہ انداز اسی آیت سے ماخوذ ہے اور یہی انداز شوہر بیوی میں سے ہر ایک کا دوسرے کے لیے لباس ہونے کا استعارہ بہتر طور پر کام دیتا ہے اور اس میں ایک دوسرا پہلو بھی ہے وہ یہ کہ جماع کے وقت عورت کبھی کبھی مرد سے بالکل چمٹ جاتی ہے اس طرح عورت مرد کے لیے ایک لباس کی طرح بن جاتی ہے۔ جماع کی بدترین صورت یہ ہے کہ عورت مرد کے اوپر ہو اور مرد پشت کے رخ سے عورت سے جمع کرے یہ طبعی شکل کے بالکل مخالف ہے جس انداز پر ا ماع کا بہترین وقت یہ ہے کہ جماع غذا کہ ہضم ہونے کے بعد کیا جائے بدن میں اعتدال ہو نہ گرمی ہو نہ ٹھنڈک نہ خشکی ہو اور نہ رطوبت نہ امتلاءشکم ہو اور نہ شکم بالکل خالی ہو البتہ پر شکم ہو کر جماع کرنے سے جو ضرر ہوتا ہے وہ خالی پیٹ جماع کرنے سے ہونے والے ضرر کے مقابل کمتر ہوتا ہے

شادی کی تقریبات میں ولیمےایک ایسا عمل ہےجو مسنون ہے،یعنی نبیؐ نے اس کا حکم دیا ہے اور آپ نے خود بھی اپنی شادیوں کا ولیمہ کیا ہے.اس کا سب سے بڑا مقصد اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اللہ نے زندگی کے ایک نہایت اہم اور نئے موڑ پر مدد فرمائی اور اسے ایک ایسا رفیق حیات اور رفیق سفر عطا فرمادیا ہے جو اس کے لیے تفریح طبع اور تسکین خاطر کا باعث بھی ہوگا اور زندگی کے نشیب وفراز میں اس کا ہم دم،ہم درداور مدد گاربھی ہوگا. حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ دونوں کےساتھ نکاح کے بعد جب رسول اللہؐ نے خلوت فرمائی تو احادیث میں صراحت ہے کہ اس کے بعد دوسرے دن آپؐ نے ولیمہ کی دعوت کی. اس سے اسی بات کا اثبات ہوتا ہے کہ ولیمہ نکاح سے پہلے نہیں ہے، بلکہ نکاح کے بعدہونا چاہیے. البتہ شب باشی کے بعد دوسرے روز ہی ضروری نہیں بلکہ دو تین دن کے وقفے کے بعد بھی جائز ہے.علاوہ ازیں ولیمے سے قبل خلوت صحیحہ بھی ضروری ہے یا نہیں یا اس کے بغیر ولیمہ جائز ہے؟

بعض لوگ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ہم بستری سے پہلے ولیمہ جائز نہیں ہے، لیکن ایسا سمھجنا صحیح نہیں ہے ، کیوں کہ بعض دفعہ پہلی رات کو جب خلوت میں میاں بیوی کی ملاقات ہوتی ہے تو عورت کے حیض کےایام ہوتے ہیں، اس لیے ایسی حالت میں بوس و کنار سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا

نیز کسی اور وجہ سے بھی بعض دفعہ ہم بستری نہیں ہو پاتی. اس لیے ولیمے کی صحت کے لیے ہم بستری کولازم خیال کرنا صحیح نہیں ہے ،مخصوص قسم کے حالات میں اس کے بغیر بھی ولیمہ صحیح ہوگا. اسی طرح کثرت رطوبت کے موقع پر جماع کرنے سے جو ضرر ہوگا وہ برودت کے وقت جماع کرنے سے ہونے والے ضرر سے کم ہوگا اور حرارت بدن کے وقت جماع برودت کے وقت کئے جانے والے جماع سے کم نقصان دہ ہوگا آدمی کو پوری طرح جوش اور شہوت کے وقت ہم بستر ہونا چاہیے کہ آدمی کا عضو تناسل پوری طرح ایستادہ ہو اور اس استادگی میں کسی تکلف اور کسی تخیل صورت کو دخل نہ ہو اور نہ بار بار عورت کو دیکھنے کے باعث ہوئی ہو اور یہ بھی مناسب نہیں کہ خواہ مخواہ شہوت جماع کو ابھارے اور خود کو بلا ضرورت اس میں مشغول کرے البتہ اگر کثرت منی ہو استادگی پوری ہو اور شہوت بھی پورے طور پر ہو اور جماع کرنے کی غیر معمولی خواہش ہو تو جماع کرنا چاہیے ایسی بوڑھی عورتوں اور کمسن لڑکیوں سے جماع نہ کریں جن سے لوگ عادتاً جماع نہیں کرتے یا ایسی عورت جس کو خواہش جماع نہ ہو مریضہ ہو بدشکل نفرت انگیز عورتوں سے جماع کرنے سے قوی جسمانی کمزور ہوتے ہیں اور یوں بھی جماع کی خاصیت ضعف پیدا کرنا ہے

اور بعض اطباءکا جو یہ خیال ہے کہ شادی شدہ عورتوں سے جماع کرنا کنواری لڑکیوں سے زیادہ مفید اور صحت کے لئے نفع بخش ہے ان کا یہ خیال بالکل غلط ہے اور ان کا یہ قیاس مبنی بر فساد ہے اس سے بہتیروں نے گریز کیا اور یہ بات عقلاءاور دانشوروں کے خلاف ہے اور اس پر طبیعت وشریعت کا بھی اتفاق نہیں۔ کنواری عورتوں سے جماع کرنے میں عجیب خاصیت ہے اس عورت اور اس سے جماع کرنے والے مرد کے درمیان گہری محبت پیدا ہوجاتی ہے عورت کا دل شوہر کے پیار ومحبت سے لبریز ہوتا ہے اور وہ دونوں کی محبت کے درمیان کوئی دیوار حائل نہیںہوتی اور یہ تمام لذت ومحبت شادی شدہ عورت میں پائی نہیں جاتی۔ چنانچہ نبی اکرمﷺنے خود حضرت جابر ؓسے فرمایا کہ کیوں نہیں تونے کسی کنواری عورت سے شادی کرلی اور اللہ سبحانہ وتعالی نے جنت میں جن حوروں کی ازدواجی تعلق کے لئے رکھ چھوڑا ہے وہ کنواری ہوںگی کسی نے ان کو چھوا بھی نہیں ہوگا

صرف وہی جنت میں چھو سکیں گے جن کے حصے میں وہ آئیں گی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ اگر آپ کا گزر ایسے درخت سے ہو جس میں اونٹ چرگیا ہو اور ایسے دوسرے درخت سے گزر ہو جس میں سے ابھی کسی اونٹ نے منہ نہ لگایا ہو. تو ان دونوں میں سے اپنے اونٹ کو آپ کہاں چرانا پسند کریں گے؟ آپ نے فرمایا جس میں ابھی تک کسی اونٹ نے منہ نہ لگایا ہو۔اس تمثیل سے مراد وہ کنواری لڑکی ہے جس کو ابھی تک کسی مرد نے ہاتھ نہ لگایا ہو وہ میںہی ہوں۔ کسی پسند یدہ عورت سے جماع کرنے کے بعد کثرت منی کے استفراغ کے باوجود بدن میں کمتر کمزوری کااحساس ہوتا ہے اور قابل نفرت ناپسند عورت سے جماع کرنے کے بعد بدن کو بے حد کمزوری کا احساس ہوتا ہے گو کہ استفراغ منی کم ہو اور حائضہ عورت سے جماع کرنا فطرت وشریعت دونوں کے خلاف ہے اور نہایت ضرررساں ہے تمام اطباءاس سے کلی طور پر پرہیز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

جماع کی سب سے عمدہ صورت یہ ہے کہ مرد عورت کے اوپر ہو اور ملاعبت اور بوسہ بازی کے بعد عورت کو چت لٹا کر اس سے جماع کرے اسی وجہ سے عورت کو فراش کہتے ہیں خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”الولد للفراش“ یعنی لڑکا عورت کے لیے ہے یہاں عورت کو فراش سے تعبیر کیا گیا اور یہ مرد کا عورت پر مکمل حاکمیت کو ثابت کرتا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے:

”مرد عورتوں پر حاکم مقرر کئے گئے ہیں“۔

اور اللہ نے فرمایا: ”وہ (عورتیں) تمہارے لیے لباس ہیں اور تم (مرد) ان کی پوشش ہو“۔

اور اس انداز میں جمع کرنے سے لباس کا معنی پورے طور پر صادق آتا ہے اس لیے کہ مرد فراش اس کے لیے لباس ہے اور اسی طرح عورت کا لحاف اس کا لباس ہے غرض جماع کا یہ عمدہ انداز اسی آیت سے ماخوذ ہے اور یہی انداز شوہر بیوی میں سے ہر ایک کا دوسرے کے لیے لباس ہونے کا استعارہ بہتر طور پر کام دیتا ہے اور اس میں ایک دوسرا پہلو بھی ہے وہ یہ کہ جماع کے وقت عورت کبھی کبھی مرد سے بالکل چمٹ جاتی ہے اس طرح عورت مرد کے لیے ایک لباس کی طرح بن جاتی ہے۔ جماع کی بدترین صورت یہ ہے کہ عورت مرد کے اوپر ہو اور مرد پشت کے رخ سے عورت سے جمع کرے یہ طبعی شکل کے بالکل مخالف ہے.
Urdu Khabrain

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...