https://goo.gl/uN1ze2
لندن: برطانوی کمپنی نے دنیا کا چھوٹا ترین موبائل فون متعارف کروا دیا، نصف انچ اسکرین کے حامل اس موبائل کا وزن 13 گرام ہے۔
برطانوی کمپنی نے کا سب سے چھوٹا اور قابلِ استعمال موبائل فون بنانے کا دعوی کیا ہے، جس کی اسکرین نصف انچ، وزن 13 گرام جبکہ اس کی لمبائی بالغ انسان کے انگوٹھے سے بھی کم ہے۔
اس فون پرٹو جی نیٹ ورک سے آگے کا نیٹ ورک کام نہیں کرتا اور یہ نیٹ ورک دنیا بھر میں تیزی سے ختم ہورہا ہے۔
کمپنی نے دعوی کیا ہے کہ یہ ایمرجنسی میں استعمال کرنے والا فون ہے اور کسی بھی طرح جدید ترین اسمارٹ فون کی جگہ نہیں لے سکتا۔
یہ فون ٹو جی نیٹ ورک پر کام کرتا ہے اور یہ سروس امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، یورپ اور ایشیا کے بعض ممالک میں ختم ہورہی ہے۔
دوسری جانب تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ یہ اتنا چھوٹا ہے کہ اس پر ایس ایم ایس ٹائپ کرنا اور فون کرنا قدرے مشکل ہے۔ اس فون کا نام زینکو ٹائنی ٹی ون رکھا گیا ہے۔
موبائل فون کا وزن پانچ روپے کے دو عدد پاکستانی سکوں کے برابر ہے، موبائل کی اسکرین ریزولیوشن صرف 64 ضرب 32 پکسل ہے، اس کی بیٹری کی قوت 200 ایم اے ایچ ہے جو تین دن چلتی ہے اور 180 منٹ تک بات کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
فون بک میں 300 نمبر اور میسج فولڈر میں صرف 50 پیغامات ہی رکھے جا سکتے ہیں۔ ایجنسی
Urdu Khabrain
News, Pakistan Sci-Tech News, Pakistani News, Samaa, Sci-Tech Khabrain, Sci-Tech News, Sci-Tech Urdu News, Urdu, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Sci-Tech News, ترین, دنیا, سائنس و ٹیکنالوجی, فون, موبائل, چھوٹا, کا
Monday, 1 January 2018
دنیا کا چھوٹا ترین موبائل فون
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment