https://goo.gl/Qdx5N1
ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ اور دیگر 6 ملزمان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم اس یقین دہانی کے بعد واپس لے لیا کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے سندھ ہائی کورٹ کو ایگزیکٹ مقدمات 15 دن میں نمٹانے کی ہدایت بھی کردی۔ یاد رہے کہ مذکورہ کیس کی 7 فروری کو ہونے والی گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل کے تمام ملزمان کو 9 فروری کو طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ اگر جعلی ڈگریوں کی خبر میں صداقت ہے تو کوئی نہیں بچ پائے گا، سب کا نام ای سی ایل میں ڈالیں گے۔
چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ آج سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بشیر میمن سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ کیا ایگزیکٹ ایک کمپنی ہے؟ اور یہ کب سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ ہے؟ بشیر میمن نے جواب دیا کہ یہ کمپنی جولائی 2006 سے پہلے سے رجسٹرڈ ہے اور اس کا ہیڈ آفس خیابان اقبال، کراچی میں ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ ایگزیکٹ کا بزنس کیا ہے؟
ڈی جی ایف آئی نے جواب دیا کہ سافٹ وئیر کی ایکسپورٹ کا بزنس ظاہر کیا گیا ہے، ایگزیکٹ کے 10 بزنس یونٹس ہیں۔ بشیر میمن نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ ایگزیکٹ کی 330 یونیورسٹیاں تھیں اور اس کا 70فیصد ریونیو آن لائن یونیورسٹیوں سے آتا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ میں مقدمات زیرالتوا کیوں ہیں؟ ساتھ ہی چیف جسٹس نے سندھ ہائی کورٹ کو آئندہ ہفتے فوری بنچ تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ ایگزیکٹ مقدمات کا 15دن میں فیصلہ دے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ تجربہ پر ایگزیکٹ والی ڈگری مل جاتی تھی۔
جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میرا قانون کا تجربہ ہے، کیا مجھے پی ایچ ڈی کی ڈگری مل سکتی ہے؟ بشیر میمن نے جواب دیا کہ تجربے کی بنیاد پر آپ کو قانون اور انگلش کی ڈگری مل سکتی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ انگلش میری اتنی اچھی نہیں ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ایگزیکٹ کا اپنا پلیٹ فارم ہے جو ایکریڈیٹیشن بھی کرتا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ایگزیکٹ والے ایکریڈیٹیشن کیسے کر سکتے ہیں؟ بشیر میمن نے جواب دیا کہ جناب ایگزیکٹ نے پیج بنا کر ایکریڈیٹیشن شروع کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یونیورسٹیاں تو کسی قانون کے تحت بنتی ہیں۔ ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ کام 2006 سے ہو رہا ہے، 2006 سے 2015 تک یہ کاروبار ہوتا رہا، اگر یہ درست ہے تو لوگوں سے فراڈ ہوا۔
ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس
دنیا بھر میں جعلی ڈگری کا کاروبار کرنے والی کمپنی ایگزیکٹ کا انکشاف 18 مئی 2015 کو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے کیا تھا۔ ایگزکٹ کا جعلی ڈگریوں کا اسکینڈل دنیا بھر میں پاکستان کے لیے بدنامی کا باعث بنا کیونکہ ایگزیکٹ جعلی ڈگری، پیسے چھاپنے اور لوگوں کو بلیک میل کرنے کا کاروبار دنیا بھر میں پھیلا چکی تھی۔
کمپنی کا اسکینڈل سامنے آنے پر حکومت، ایف آئی اے اور دیگر تحقیقاتی اداروں نے مل کر بھرپور کارروائی کی اور کمپنی کے مالک شعیب شیخ، وقاص عتیق سمیت جعلی ڈگری کا دھندا کرنے والے کئی افراد حراست میں لے لیے گئے۔ عالمی جریدوں اور ٹی وی چینلز نے اس معاملے پر کڑی تنقید کی جبکہ امریکا میں فرنٹ مین پکڑا گیا جسے اعتراف جرم اور بھانڈا پھوڑنے کے بعد سزا ہوئی۔ جعلی ڈگری اسکینڈل کے خلاف پاکستان میں کراچی اور اسلام آباد میں مقدمات درج ہوئے، کارروائیاں تیز کی گئیں مگر پھر کارروائی کی راہ میں چند پراسرار موڑ آئے اور معاملہ خفیہ قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہوگیا۔ بعدازاں ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں سے متعلق رپورٹس دوبارہ سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس معاملے پر ازخود نوٹس لے لیا.
Urdu Khabrain
15, Breaking Pakistani News, Daily Pakistan News, Online Pakistani News, Pakistan latest News, Pakistan News, Pakistan Urdu News, Pakistani Khabrain, Top Pakistani News, ایگزیکٹ, جسٹس, دن, دے, سندھ, فیصلہ, مقدمات, میں, پاکستان, چیف, کا, کورٹ, ہائی
No comments:
Post a Comment