https://goo.gl/c8EHNb
امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کانگریس کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی عسکری امداد روک کر دباؤ ڈالنے کا حربہ بری طرح شکست سے دوچار ہوا اور اسلام آباد تاحال اپنی پالیسی پر گامزن ہے۔
امریکا کی نئی جنوبی ایشیاء سے متعلق حکمت عملی کے حوالے سے سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی میں امریکی حکام اور پارلیمانی وفد نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن کا قیام ناممکن ہے۔
کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین سینیٹر رابرٹ کروکر نے پاکستان کی عسکری امداد روکنے کے فیصلے کی بھرپور تائید کی۔
سینیٹر نے کہا کہ ‘جب تک اسلام آباد حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتا رہے گا اس وقت تک پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی عسکری امداد پرپابندی ہوگی، یہ ایک واضح لکیر ہے، دہشت گرد عام شہریوں سمیت امریکی اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بناتے ہیں’۔
دوسری جانب کمیٹی میں موجود سینیٹر بین کارڈن نے استفسار کیا کہ ‘کیا پاکستان کی عسکری امداد روکنے سے کوئی تبدیلی آئی’۔
جس پر ڈپٹی سیکریٹری اسٹیٹ جان سیلوان نے جواب دیا کہ ‘یقیناً (پاکستان کی پالیسی) میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اس لیے ہم اسے حتمی اور ناقابل تنسیخ سمجھیں گے’۔
ایک سینیٹر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ‘ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کیے گئے لیکن تاحال (حقانی نیٹ ورک کے خلاف) قابل ستائش اقدامات نہ اٹھانے کی وجہ سے ممکن نہیں کہ عسکری امداد سے پابندی ختم کردی جائے ’۔
سیکریٹری اسٹیٹ جان سیلوان نے کہا کہ‘پاکستان باخوبی ہماری ترجیحات سمجھتا ہے اور عسکری امداد پر پابندی کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس قدم نہیں اٹھائے جائیں گے’۔
کمیٹی کے اراکین نے اس امر کا کھل کر اظہار کیا کہ ‘واشنگٹن یقین رکھتا ہے کہ پاکستان ناصرف اہم اتحادی ہے بلکہ نئی حکمت عملی کی کامیابی میں اُس کا کردار کلیدی ہے’ ۔
جان سیلوان نے اجلاس کے ابتدائی مرحلے میں دستاویز پڑھی جس میں کہا گیا کہ امریکا پاکستان کی عسکرامداد دوبارہ شروع کردے گا تاہم اسلام آباد کو تمام دہشت گردوں کے خلاف ‘حتمی اور پراثر’ ایکشن لینا ہوگا۔
جان سیلوان نے کہا کہ امریکا خطے میں تناؤ میں کمی خواہاں ہے اور اس کے لیے پاکستان کے جائزتحفظات کو ضرور دور کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم دنیا بھر میں پراکسی وار کے مخالف ہیں اور عالمی نظام میں دہشت گردوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے’۔
واضح رہے کہ پاکستان نے امریکی اور افغان حکام کو ثبوت پیش کیے ہیں جس میں دعویٰ کیا گیا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروپس افغانستان کی سرحدوں میں قائم ٹھکانوں میں منتقل ہو گئے ہیں اور ادھر سے بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کی واردات کرتے ہیں۔
اس حوالے سے پاکستان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ افغانستان میں بڑھتی بھارتی عملداری سے سیکیورٹی خدشات جنم لے رہے ہیں لیکن امریکی حکام کی جانب سے مسلسل خاموشی ہے۔
بھارت، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو پاکستان میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
Urdu Khabrain
Pakistan World News, Pakistani News, Top World News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral World News, World Khabrain, World News, World Urdu News, انٹرنیشنل
Thursday, 15 February 2018
‘پاکستان پر دباؤ ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں ہوا‘
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment