https://goo.gl/4dUF84
اگر تو آپ اکثر گوگل سرچ پر تصاویر تلاش کرتے ہیں تو کل سے آپ نے اس میں بظاہر ایک چھوٹی مگر درحقیقت بڑی تبدیلی کو ضرور دیکھا ہوگا اور وہ ہے ویو امیج بٹن کا غائب ہونا، جو اس وقت نظر آتا تھا جب آپ کسی تصویر پر کلک کرے اسے مطلوبہ فوٹو کو الگ سے کھول پاتے تھے۔
یہ بٹن صارفین کے لیے بہت زیادہ کارآمد تھا خصوصاً جب کسی تصویر کو سرچ کیا جارہا ہو اور اکثر افراد نے ہی اسے استعمال کیا ہوگا۔
مگر اب آپ کو کسی تصویر کو محفوظ کرنے کے لیے اضافی اقدامات کرنا ہوں گے اور دنیا بھر میں صارفین نے اس پر کافی احتجاج کیا ہے۔
گوگل کافی عرصے سے فوٹوگرافرز اور پبلشرز کی تنقید کی زد میں تھا، جنھیں لگتا تھا کہ امیج سرچ کے ذریعے لوگ ان کی تصاویر آسانی سے چرا لیتے ہیں، جس پر گوگل نے ردعمل میں ویو امیج بٹن کو ہٹا دیا ہے۔
یہ اقدام گوگل کی جانب سے گیٹی امیجز کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد کیا گیا جو کہ گزشتہ ہفتے ہوا تھا۔
اس اقدام کا مقصد لوگوں کو کسی تصویر کو محفوظ کرنے سے روکنا یا اس ویب سائٹ پر جانے پر مجبور کرنا ہے جہاں وہ تصویر لگی ہو، اس سے ویب سائٹ کو اشتہارات زیادہ مل سکیں گے جبکہ صارف کاپی رائٹ معلومات دیکھ سکیں گے۔
یہ ویب سائٹس اور فوٹوگرافرز کے لیے تو اچھی تبدیلی ہے مگر تصاویر تلاش کرنے والے عام صارف کے لیے دردسر ہے، کیونکہ اب اسے کسی ویب سائٹ کے لوڈ ہونے اور پھر اسکرول کرکے تصویر کو تلاش کرنے کی زحمت اٹھانا پڑے گی۔
کچھ ویب سائٹس میں تو رائٹ کلک کو ڈس ایبل کیا ہوتا ہے تو تصویر کو اٹھانا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔
مگر اچھی بات یہ ہے کہ گوگل امیج سرچ پر ہی مطلوبہ تصویر پر رائٹ کلک کرکے آپ اوپن امیج ان نیو ٹیب یا ویو امیج (جو آپ کا براﺅزر آپشن دے) سلیکٹ کرکے فل سائز تصویر اوپن کرسکتے ہیں۔
مگر گوگل کے خیال میں بیشتر افراد کو اس آپشن کا احساس نہیں یا علم نہیں اور وہ وزٹ سائٹ بٹن پر کلک کریں گے کیونکہ وہ زیادہ نمایاں ہے۔
Google SearchLiaison (@searchliaison) February 15, 2018
ویو امیج بٹن کے ساتھ گوگل نے سرچ بائی امیج بٹن بھی ختم کردیا ہے، تاہم یہ بھی زیادہ بڑی تبدیلی نہیں کیونکہ لوگ کسی تصویر کے بارے میں سرچ کرنا چاہے تو اسے کھینچ کر سرچ بار تک لے جائیں، جس کے بعد گوگل متعلقہ تصاویر دکھادے گا۔
عام طور پر یہ آپشن واٹرمارک والی تصاویر کے صاف ورژن کی تلاش میں استعمال ہوتا ہے یا فوٹو کے بڑے سائز کے لیے۔
Urdu Khabrain
Pakistan Sci-Tech News, Pakistani News, Sci-Tech Khabrain, Sci-Tech News, Sci-Tech Urdu News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Sci-Tech News, سائنس و ٹیکنالوجی
No comments:
Post a Comment