https://goo.gl/17xFBJ
چینی اکیڈمی برائے سائنسز اور یونیورسٹی آف بفیلو امریکہ کے ماہرین نے مشترکہ طور پر ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جس کے ذریعے آپ جسمانی حرکات وسکنات سے فون چارج کرسکیں گے۔
اس ٹیم نے ایک ٹرائبو الیکٹرک جنریٹر بنایا ہے جو چھوٹی دھاتی ٹکیوں کی شکل میں ہے اور انگلی خم کرنے جیسی سادہ حرکات سے بھی بجلی تیار کرتا ہے۔ اس نظام میں استعمال ہونے والی چھوٹی ٹکیہ ’’ٹرائبوالیکٹرک ایفیکٹ‘‘ کے تحت کام کرتے ہوئے، دو سطحوں کے درمیان رگڑ سے بجلی بناسکتی ہیں۔ انجینئروں کے مطابق برق سکونی (اسٹیٹک الیکٹریسٹی) بھی ایک طرح سے ٹرائبوالیکٹرک قوت ہی ہوتی ہے۔
چینی اور امریکی ماہرین نے سونے اور پولی ڈائی میتھائل سائلوکسین (پی ڈی ایم ایس) کی مدد سے دو باریک پرتیں تیارکرکے انہیں ایک ساتھ رکھا۔ جب سونے کے باریک ورق کو کھینچا جاتا ہے تو وہ اپنی جگہ واپس تو آجاتا ہے لیکن اس پر باریک ابھار بن جاتے ہیں۔ جب اسے دوبارہ موڑا جاتا ہے تو سونے کی پتری اور پی ڈی ایم ایس میں رگڑ پیدا ہوتی ہے جس سے بجلی کی معمولی مقدار پیدا ہوتی ہے۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر ڈاکٹر یون ژو کہتے ہیں، ’سونے کی پتری میں الیکٹرون آگے اور پیچھے کی جانب حرکت کرتے ہیں۔ دونوں مٹیریلز کے درمیان رگڑ جتنی زیادہ ہوگی، اتنی ہی توانائی پیدا ہوگی۔‘
اس کا ابتدائی نمونہ (پروٹوٹائپ) ڈیڑھ سینٹی میٹر لمبا اور ایک سینٹی میٹر چوڑا ہے اور بہت کامیابی سے 124 وولٹ تک بجلی دیتا ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ 10 مائیکروایمپیئر کے حساب سے 0.22 ملی واٹ فی مربع سینٹی میٹر پیدا کرسکتا ہے۔ یہ توانائی کسی فون کو چارج کرنے کے لیے بہت کافی ہے خواہ وہ کوئی بہت اعلیٰ اسمارٹ فون ہی کیوں نہ ہو۔ تجرباتی طور پر انجینئروں نے اس سے ایک وقت میں 48 ایل ای ڈیز روشن کی ہیں۔
اچھی بات یہ ہے کہ اس ٹرائبوالیکٹرک جنریٹر کی تیاری بہت کم خرچ ہے اور اس بنا پر چھوٹا جنریٹر آسانی سے تیار کیاجاسکتا ہے۔
تحقیقی رپورٹ کے ایک اور مصنف جیاکیانگ گین نے کہا ہے کہ چھوٹے آلات کی چارجنگ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور ہر جگہ تار سے جڑ کر انہیں چارج کرنا پڑتا ہے۔ لیکن انسانی جسم کی قوت سے بجلی بناکر دستی آلات چارج کیے جاسکتے ہیں۔
اس اہم شئے کی تفصیلات تحقیقی مجلے ’’نینو انرجی‘‘ میں شائع ہوئی ہیں۔
Urdu Khabrain
Pakistan Sci-Tech News, Pakistani News, Sci-Tech Khabrain, Sci-Tech News, Sci-Tech Urdu News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Sci-Tech News, سائنس و ٹیکنالوجی
No comments:
Post a Comment