https://goo.gl/U3m9mq
دنیا بھر میں سازشی تھیوری پر یقین کرنے والے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ وہ ہر خلافِ مزاج بات میں سازش کے ایسے پہلو تلاش کرتے ہیں کہ انسان کو صریح ترین حقائق بھی دھوکا لگنے لگتے ہیں۔ تاہم دنیا میں نظریہ سازش کے علمبردار اپنی بات کی تائید میں کچھ نہ کچھ قرائن اور معقول نکات ضرور پیش کرتے ہیں جن کا رد کرنے کے لیے علم ہونا بہت ضروری ہوتاہے۔ تاہم یہ اعزاز صرف مملکت خداداد پاکستان کے حصے ہی میں آیا ہے کہ یہاں بغیر کسی قرینے کے کسی بھی حقیقت کو ایک سازش قرار دے کر جھٹلایا جاسکتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں لوگ بالکل جذباتی انداز فکر رکھتے ہیں۔ ایک جذباتی شخص کے مزاج کے مطابق بات کردی جائے تو اسے اس بات کو ماننے کے لیے ہی نہیں ، آگے بیان کرنے کے لیے بھی کسی دلیل اور قرینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
مجھے اپنی دعوتی زندگی میں اس بات کا بار بار تجربہ پیش آیا ہے۔
مثلاً ایک دفعہ ایک صاحب میرے دفتر تشریف لائے۔ دوران گفتگو انھوں نے ارشاد فرمایا کہ پاکستان کے تمام مسائل کی اصل وجہ امریکی سازشیں ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ ہمارے ہاں گوالے دودھ میں جو پانی ملاتے ہیں تو کیا یہ بھی کسی امریکی سازش کا نتیجہ ہے؟ انھوں نے ترنت جواب دیا کہ ہاں یہ بھی امریکی سازش کا نتیجہ ہے۔ظاہر ہے کہ اس کے بعد میرے پاس خاموش ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور وہ اپنی فتح کا جشن مناتے ہوئے رخصت ہوگئے۔
اس بات کا ایک اور تجربہ مجھے حال ہی میں پیش آیا۔میں نے کسی مضمون میں قوم کی اخلاقی حالت کا نوحہ پڑھتے ہوئے ، دیگر چیزوں کے ساتھ یہ بھی بیان کردیاکہ انٹرنیٹ میں پورنوگرافی سرچ کرنے والے ٹاپ ممالک میں سے ایک نام پاکستان کا آتا ہے۔
اس کے بعد بعض احباب میری تحریروں کو پسند کرنے کے باوجود مجھے یہ باور کرانے پر تل گئے کہ یہ ہم پاکستانیوں کو بدنام کرنے کی ایک مغربی سازش ہے۔ میں نے ایک صاحب سے پوچھ لیا کہ یہ سازش کیسے ہے تو انھوں نے فرمایا کہ یہ ایک انگریزی اخبار کا اڑایا ہوا جھوٹ ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اس کا ماخذ وہی گوگل ہے جس سے باقی ساراڈیٹا بھی لوگ ہر روز حاصل کرتے ہیں۔وہ نہ مانے اور کہنے لگے کہ گوگل نے بھی یہ ڈیٹا انگریزی اخبار سے لیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اور پھر اسی وقت گوگل سے سارا ڈیٹا نکال کر ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ وہ شریف آدمی تھے، خاموش ہوگئے۔ورنہ الفاظ کبھی ختم نہیں ہوتے، وہ کچھ بھی کہہ کر اپنی بات پر قائم رہ سکتے تھے۔ یہی ہمارے ہاں کا عام رویہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے دنیا میں ترقی کرنے کی بنیادی شرط یہ ہوتی ہے کہ قوم کے افراد کی اکثریت معقول انداز فکررکھتی ہو۔ کم سے کم بنیادی حقائق سمجھنے میں وہ جذباتیت کا شکار نہ ہوتے ہوں۔ جس طرح اپنی ذاتی زندگی میں وہ معقولیت اور حقائق کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتے ہوں، اسی طرح وہ اجتماعی معاملات میں رائے دیتے ہوئے بھی معقولیت کا راستہ اختیار کرتے ہوں۔
اس کے برعکس جب پوری کی پوری قوم جذباتی ہیجان کا شکار ہو جائے۔ عام لوگ ہی نہیں اہل فکر ودانش بھی جذبات کے اسیر بن جائیں۔حقائق کے بجائے رومانویت کا غلبہ ہوجائے۔لوگ انفرادی زندگی میں عقل اور اجتماعی معاملات میں جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگیں۔بے معنی الفاظ بولنے اورلکھنے والے عام مقبولیت حاصل کرلیں اور معقولیت کی بات کرنے والے کی مخالفت کی جانے لگے تو سمجھ لیجیے کہ قوم کے برے دن ابھی باقی ہیں۔
اس دنیا میں کامیابی کا راستہ ایک ہی ہے: فیصلے جذبات کی بنیاد پر نہیں، حقائق کی بنیاد پر کیے جائیں۔ فرد ہو یا قوم؛دونوں کے لیے فلاح کا یہی راستہ ہے۔
Urdu Khabrain
Tuesday, 6 March 2018
سازشی تھیوریاں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment