Saturday, 10 March 2018

تا رکین وطن کی نصف تعدادچوری چھپے موبائل استعمال کررہی ہے:اقوام متحدہ

https://goo.gl/sav6Nv
نیویارک(این این آئی) اقوام متحدہ نے کہاہے کہ دنیا بھر میں ہر مہاجر کے پاس سمارٹ فون کی موجودگی لازم نہیں، تاہم ان تارکین وطن کی قریب نصف تعداد ضرور اس جدید آلے کا استعمال کرتی ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے ایک بیان میں کہاکہ دنیا بھر میں ہر مہاجر کے پاس سمارٹ فون کی موجودگی لازم نہیں ،زیادہ تر افراد سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کے ایپس کے لیے سمارٹ فونز کی مدد لیتے ہیں جبکہ بہت سے تارکین وطن فیس بک، ٹوئٹر، وٹس ایپ، سکائپ، وائبر، جی پی ایس اور گوگل میپس کا استعمال کرتے ہیں۔ بیان میں مزیدبتایا گیا ہے کہ تارکین وطن سمارٹ فونز پر ترجموں، راستوں کی نشان دہی، سرحدی چوکیوں، مہاجرت پر آنے والے اخراجات، سیاسی پناہ کے لیے بہتر ممالک، پولیس سے بچنے کے طریقوں، انسانوں کے سمگلروں تک رسائی، سفر کی تصاویر حتی کہ یورپ میں مہاجرت اور دیگر پالیسیوں تک کی معلومات ان سمارٹ فونز کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔تاہم مہاجرین کی مدد کرنے والی تنظیموں کے مطابق اس حوالے سے متعدد خطرات سے بھی تارکین وطن کو واقف ہونا چاہیے۔ ایک تو یہ کہ تمام ایپس برابر نہیں ہیں۔
مثال کے طور پر وٹس ایپ میں کی جانے والی گفتگو فقط وہی افراد پڑھ سکتے ہیں، جن کے درمیان یہ گفت گو ہو رہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تارکین وطن میں یہ ایپ مقبول بھی ہے اور اسے محفوظ بھی سمجھا جاتا ہے۔ فیس بک میسنجر بھی پیغامات کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ڈیٹا کی پیش کش کرتا ہے، تاہم یہ ڈیفالٹ نہیں ہے اور اسے ایکٹیویٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے فیس بک میسنجر پر ہونے والی گفت گو کی نگرانی قدرے آسان ہے۔
Urdu Khabrain

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...