Saturday, 3 March 2018

انڈیا کے سب سے امیر مندر کے پاس سات ٹن سونا

https://goo.gl/AqXsd9
ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں لوگوں کے پاس 20 ہزار ٹن سونا ہے

انڈیا میں لوگوں کو سونا یعنی گولڈ بہت پسند ہے خواہ وہ تہوار کے دوران خريداري ہو، شادی میں تحفے کے طور پر دینا ہو یا پھر مذہبی تہوار میں عطیہ۔

ایسا خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ انڈیا میں لوگوں کے گھروں، کاروباری اداروں اور مندروں کے خزانوں میں تقریباً 20،000 ٹن سونا جمع ہے۔

لیکن اس قیمتی دھات کی وجہ سے ملک کے درآمدی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کو سونے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسے درآمد کرنا ہوتا ہے۔

لیکن ملک میں لوگوں کے گھروں اور مندروں میں پڑے سونے معیشت کے استحکام میں استعمال نہیں ہو پاتے۔

بینک میں سونا جمع کرنے کے لیے حکومت نے سکیم لانچ کی ہے
اسی لیے حکومت اب اس بکھرے پڑے سونے کو معیشت میں لانے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

حکومت ذاتی طور پر جمع سونے کو نکال کر معیشت میں لانے کا منصوبہ رکھتی ہے اور اس میں دولت مند ہندو اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ایک کھرب ڈالر مالیت کا سونا لوگوں کے ذاتی لاكرز میں جمع ہے۔

وسطی ریاست آندھرا پردیش کا تروملا تروپتی مندر ملک کا سب سے امیر مندر ہے جس کے پاس سات ٹن سونا ہے اور عقیدت مند روزانہ یہاں سونا نذرانے میں پیش کرتے ہیں۔

انڈیا کے تمام مندروں میں کتنا سونا ہو سکتا ہے؟



سونا بھارت میں لوگوں کو بہت پسند ہے
عقیدت مند مندر کی دان پیٹیوں (عطیہ والے صندوقوں) میں اربوں ڈالر کی نقد رقم اور زیورات ڈالتے ہیں جس میں سونا بطور خاص ہوتا ہے۔

تروپتی ایسا پہلا مندر ہے جس نے حکومت کی منصوبہ بندی میں شراکت داری کی ہے۔ حکومت کو دیے جانے والے سونے پر مندر کو سود کی شکل میں آمدنی ہوتی ہے۔

مندر کے ٹرسٹ تروملا تروپتی دیوستھانم نے پنجاب نیشنل بینک میں تقریباً 1.3 ٹن سونا جمع کیا ہے۔

سٹیٹ بینک میں سرمایہ کاری کے لیے ایک ٹن سونے کو بھی ٹرسٹ اسی مقصد سے منتقل کر رہا ہے۔

تروپتی مندر میں سات ٹن سونا ہے
مندر ٹرسٹ نے تقریباً ڈیڑھ ٹن سونا انڈین اوورسيز بینک میں بھی رکھا ہے۔

مندر کے حکام کے مطابق گولڈ ڈپازٹ سکیم (جي ڈي ایس) کے تحت ساڑھے چار ٹن سونا جمع ہے جس سے سود کے طور پر مندر کو ہر سال 80 کلو سونے کی کمائی ہوتی ہے۔

ممبئی کے شري سدھی ونايك مندر ٹرسٹ نے بھی کہا ہے کہ وہ تقریباً 45 کلو سونا اس منصوبے کے تحت جمع کرے گا۔ بہت سے دوسرے مندر بھی اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

گولڈ مونیٹائزیشن سکیم (جی ایم ایس) کیا ہے؟



تروپتی میں سونے کی رفائنری
جی ایم ایس کے تحت ریزرو بینک کسی بھی شخص کو سونے کے بار یا زیورات بینک میں جمع کرانے اور اس سے سود کمانے کی اجازت دیتا ہے۔

اس منصوبہ کے تحت شخصیت، ٹرسٹ اور میوچوئل فنڈز بینکوں میں سونا جمع کرا سکتے ہیں۔ اس سکیم کا فائدہ اٹھانے کے لیے کم از کم 30 گرام سونا جمع کرنا ہوتا ہے۔

سونا جمع کرنے کی کوئی بالائی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔

بینکوں میں جمع سونے کا سود سونے کے طور پر بھی وصول کیا جا سکتا ہے۔

جی ایم ایس کے تحت سونا جمع کس طرح ہوتا ہے؟



حکومت کی سرمایہ کاری کی سکیم

کم از کم 30 گرام سونا جمع کرنے کی تجویز سے چھوٹے سرمایہ کاروں کی بھی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کوئی بھی شخص پین کارڈ، آدھار کارڈ کے ساتھ سونے کی ٹوٹی چوڑیاں اور ہار لے کر مخصوص بینک میں جمع کرا سکتا ہے۔

اس کے بعد بینک سرمایہ کار کو ایک خط دیتا ہے جسے لے کر سونے کے کھرے کھوٹے کی جانچ کے لیے تحقیقاتی مرکز میں جانا ہوتا ہے۔

خالص پن کی جانچ اور سونا جمع کرنے کے لیے کئی مراکز بنائے گئے ہیں۔ ان مراکز میں سرمایہ کار کے سامنے ہی سونے کے خالص ہونے کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور پھر ایک سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔

اسی سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر بینک جی ایم ایس اکاؤنٹ کھولتا ہے۔

بینک سونے کے سود کا کس طرح تعین کرتا ہے؟



سونے کو بار میں سکے میں یا پھر زیورات میں جمع کیا جا سکتا ہے
جمع کیے جانے والے سونے کو بینک مختصر مدت ڈپازٹ سکیم کے تحت ایم ایم ٹی سی (میٹل اینڈ منرل ٹریڈنگ کارپوریشن آف انڈیا) کو سونے کے سکے ڈھالنے کے لیے فروخت کر سکتا ہے یا قرض دے سکتا ہے۔

بینک ڈپازٹ سونے کو سناروں کو بھی، سرمایہ کار کو دیے جانے والے سود کی شرح سے قدرے زیادہ شرح پر، قرضے دے سکتا ہے۔

بینک میں زیور، سکے یا بار کے طور پر سونا جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس سونے پر وزن کی بنیاد پر سود دیا جاتا ہے اور وقت کے ساتھ سونے کی قیمت میں اضافے کا فائدہ بھی سرمایہ کار کو ملتا ہے۔

سود کی شرح کا تعین متعلقہ بینک ہی کرتا ہے۔

سرمایہ کاری کی مدت کیا ہے؟



سونے کے خالص پن کی جانچ کے بعد اسے بینک میں جمع کیا جاتا ہے
بینک ایک سے تین سال کی مختصر مدت کے لیے، پانچ سے سات سال کی درمیانی مدت اور 12 سے 15 سال کی طویل مدت کے لیے سونے کو قبول کر سکتے ہیں۔

مختصر مدت کے لیے بینک سونا اپنے اکاؤنٹ میں جمع کر سکتے ہیں، لیکن وسط مدت اور طویل مدت کے لیے بینک حکومت کی جانب سے سونے کی سرمایہ کاری کی پیشکش قبول کر سکتے ہیں۔

سونا واپس کیسے ہوتا ہے؟



سونے کا بدلہ سونا ہے
سونے کے سرمایہ کار کو لوٹائے جانے والے اصل اور سود کی قیمت سونے میں ہی لگائی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص 100 گرام سونا جمع کرتا ہے اور اسے ایک فیصد کی شرح سے سود ملتا ہے تو مدت پوری ہونے پر 101 گرام سونا اس کے اکاؤنٹ میں آ جائے گا۔

سونے سے ہونے والی آمدنی کیپٹل گین ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور انکم ٹیکس سے آزاد ہوتی ہے۔ جمع سونے کی قیمت میں ہونے والے اضافے اور ملنے والے سود پر بھی کیپٹل گین ٹیکس نہیں لگتا ہے۔
Urdu Khabrain
Pakistan World News, Pakistani News, Top World News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral World News, World Khabrain, World News, World Urdu News, امیر, انٹرنیشنل, انڈیا, سات, سب, سونا, سے, مندر, ٹن, پاس, کے

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...