Thursday, 14 June 2018

شی جن پنگ تاحیات صدر، چینی کانگریس میں ووٹنگ

https://goo.gl/zraadV
بیجنگ (ویب ڈیسک )چین عہدۂ صدارت کی معیاد کی حد ختم کرنے جا رہا ہے جس کے بعد موجودہ صدر شی جن پنگ ممکنہ طور پر تاحیات صدر بن سکتے ہیں۔توقع ہے کہ چین کی نیشنل پیپلز کانگریس اتوار کو اپنے سالانہ اجلاس میں اس آئینی تبدیلی کی منظوری دے گی۔

چین میں سنہ 1990 کے بعد سے صدر کے عہدے کی میعاد مقرر ہے، تاہم صدر شی نے روایت کے برخلاف اکتوبر میں ہونے والے کمیونسٹ پارٹی کانگریس میں اپنے جانشین کا اعلان نہیں کیا۔اس کی بجائے انھوں نے اپنی سیاسی قوت کو تقویت دینے پر توجہ مرکوز رکھی اور پارٹی نے ان کے نام اور سیاسی آئیڈیالوجی کو آئین کا حصہ بنانے کے لیے ووٹ دیا۔ اس طرح شی جن پنگ کا مرتبہ پارٹی کے بانی ماؤ زے تنگ کے برابر ہو گیا ہے۔فروری کے اواخر میں پارٹی نے چین کے آئین سے یہ حد ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ صدر شی کے عہدے کی مدت سنہ 2023 میں ختم ہو رہی ہے۔توقع ہے کہ یہ تبدیلی اتوار کو ہونے والے اجلاس میں آسانی سے منظور کر لی جائے گی۔کانگریس بظاہر چین کا سب سے طاقتور قانون ساز ادارہ ہے اور اس کی حیثیت دوسرے ملکوں کے پارلیمان کی طرح ہے لیکن عملی طور پر اسے ‘ربر سٹامپ’ ادارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اسے جو کہا جائے، وہ منظور کر دیتی ہے۔مخالفت کی آواز،تاہم شی جن پنگ کو تاحیات صدر مقرر کرنے کا معاملہ کسی حد تک متنازع بھی رہا ہے۔نیشنل پیپلز کانگریس نے کبھی کمیونسٹ پارٹی کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ تاہم بعض رپورٹوں کے مطابق 2980 ارکان پر مشتمل اس ادارے کے کئی ارکان رائے شماری میں حصہ نہیں لیں گے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بطورِ احتجاج ایسا کر رہے ہیں۔چین میں عائد سینسر کی وجہ سے اس موضوع پر ہونے والی بحث سامنے نہیں آ رہی ہے۔

تاہم ایک ناقد نے ایک کھلا خط لکھ کر اس آئینی تبدیلی کی تجویز کو ‘مذاق’ کہا ہے۔ایک سرکاری اخبار کے سابق مدیر لی داتونگ نے کہا کہ صدر اور نائب صدر کے عہدے کی حد ختم کرنے سے انتشار جنم لے گا۔ انھوں نے یہ خط نیشنل کانگریس کے بعض ارکان کو بھیجا ہے۔انھوں نے بی بی سی چائنا کو بتایا: ‘میں اسے مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ میں اپنے دوستوں سے بات کر رہا تھا اور ہمیں اس پر سخت غصہ ہے۔ ہمیں اپنی مخالفت کی آواز اٹھانا ہو گی۔’البتہ سرکاری میڈیا نے اس تبدیلی کو ایسی اصلاحات قرار دیا ہے جن کی ایک مدت سے ضرورت تھی۔ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے اس تبدیلی کا خیرمقدم کیا ہے۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے کہا تھا: ‘تاحیات صدر۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت زبردست بات ہے۔ ہمیں بھی اس پر غور کرنا چاہیے۔’تاہم بعد میں جب اس پر سخت تنقید ہوئی تو ٹرمپ نے کہا کہ میں تو مذاق کر رہا تھا۔گذشتہ اکتوبر کمیونسٹ پارٹی نے شی جن پنگ کے نظریات کی منظوری دی تھی۔ اب سکول، کالجوں اور سرکاری کارخانوں میں یہ نظریات پڑھائے جائیں گے۔ کمیونسٹ پارٹی کے مطابق یہ جدید چین کا نیا باب ہے۔شی سنہ 2012 میں صدر بنے تھے اور جیسے جیسے چین علاقائی سپر پاور کے طور پر ابھرتا چلا گیا، شی جن پنگ اپنی سیاسی قوت بڑھاتے چلے گئے۔

انھوں نے بدعنوانی کے خلاف سخت مہم چلائی ہے اور پارٹی کے دس لاکھ سے زیادہ ارکان کو سزا دی ہے۔ اس سے ان کی مقبولیت میں خاصا اضافہ ہوا۔اسی دوران چین میں کئی شخصی آزادیوں کو سلب کر لیا گیا اور سرکاری نگرانی اور سینسرشپ کے پروگراموں میں اضافہ کر دیا گیا
Urdu Khabrain
International Khabrain, Top World News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral World News, World Hot Khabrain, World Khabrain, World News, World Urdu News, World Viral Khabrain, انٹرنیشنل

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...