Sunday, 17 June 2018

سری دیوی کی آخری مذہبی رسومات کیسے اداکی جائیں گی ،ورثانے بتادیا

https://goo.gl/HPBMZa
دبئی (ویب ڈیسک)دبئی کے معروف ہوٹل میں حادثاتی طور پر پانی کے ٹب میں موت کے منہ میں چلی جانے والی بولی وڈ اداکارہ سری دیوی کی آخری رسومات 28 فروری کی سہ پہر ہوں گی۔سری دیوی کی لاش خصوصی طیارے سے دبئی سے ممبئی منتقل کرنے کے انتظامات کیے گئے، بھارت میں فلم انڈسٹری کی شخصیات کے ساتھ ساتھ عام افراد بھی ان کی میت کے تین دن سے منتظر ہیں۔دبئی انتظامیہ نے سری دیوی کی لاش اس وقت ہی ورثاء کے حوالے کی جب پبلک پراسیکیوشن نے اپنی تحقیق مکمل کرکے اداکارہ کی موت کو حادثہ قرار دیا۔سری دیوی 24 فروری کی رات 9 بجے کے بعد دبئی کے امیریٹس ٹاور ہوٹل میں پانی کے ٹب میں نہانے کے دوران ڈوبنے کی وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں۔

ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ اداکارہ کی موت حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے، تاہم 26 فروری کو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی موت باتھ ٹب کے پانی میں ڈوبنے سے ہوئی۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اداکارہ نے نہانے سے قبل شراب نوشی کر رکھی تھی، جس وجہ سے نہانے کے دوران وہ بے ہوش ہوگئی تھیں۔دبئی پولیس اور پبلک پراسیکیوشن نے 27 جنوری کی شام 4 بجے سری دیوی کی موت کو حادثہ قرار دے کر تمام تحقیقات بند کرکے لاش ورثاء کے حوالی کی تھی۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سری دیوی کی آخری رسومات 28 فروری کی سہ پہر ساڑھے 3 بجے ممبئی کے علاقے لوکھنڈوالہ میں واقع اسپورٹس کلب میں ادا کی جائیں گی۔

خبر کے مطابق سری دیوی کے شوہر بونی کپور، ان کی بیٹیوں جھانوی اور خوشی کپوراور بیٹے ارجن کپور کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔بیان میں میڈیا سے گزارش کی گئی ہے کہ اداکارہ کے احترام میں ان کی آخری رسومات کے دوران فوٹوگرافی یا ویڈیو ریکارڈنگ سے گریز کیا جائے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اداکارہ کا اگنی سنسکار مذہبی روایات کے مطابق اسپورٹس کلب میں ساڑھے تین بجے کیا جائے گا۔
Urdu Khabrain
Pakistan Showbiz News, Pakistani News, Showbiz Khabrain, Showbiz News, Showbiz Urdu News, Top Showbiz News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Showbiz News, شوبز

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...