https://goo.gl/AuFQTN
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ملکی تاریخ میں اب تک معاف کرائے گئے قرضوں کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے رکن رانا محمد حیات کی طرف سے پیش کئے گئے توجہ مبذول نوٹس کو قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سپرد کرتے ہوئے 15 دنوں میں رپورٹ ایوان میں پیش کر نے کی ہدایت کی ہے جبکہ توجہ مبذول نوٹس
کے محرک رانا محمد حیات نے کہاہے کہ قوم کی لوٹی ہوئی اربوں روپے پر مبنی دولت ملک میں واپس لائی جائے‘ یہ بہت بڑی خدمت ہوگی۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کےاجلاس میں رانا محمد حیات کے حکومت کی جانب سے قرضوں کی وصولیابی کے لئے ناکافی قوانین بشمول قرضوں کی معافی سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے کہا کہ حکومت کوئی قرضہ معاف نہیں کرتی ٗقرضوں کی ریکوری کے حوالے سے 2001ء کا قانون موجود تھا۔ بنکوں کو اس کے تحت یہ اختیار تھا کہ وہ رہن میں رکھی ہوئی جائیداد فروخت کر سکتی تھی ٗمگر سپریم کورٹ نے یہ ختم کردیا۔ ہماری حکومت نے برسراقتدار آکر بنکوں کا یہ اختیار واپس دلا دیا ہے۔ بینکو ں کو ان کے بورڈز چلاتے ہیں ان کا سارا کاروبار نفع و نقصان پر چلتا ہے۔ بنکوں کی بعض دفعہ سرمایہ کاری ڈوب بھی جاتی ہے۔ بنکوں کے بورڈز کے پاس اختیار ہے کہ وہ کوئی قرضہ ان حالات میں معاف کر سکتا ہے۔ قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے بنکوں کی مقرر کردہ اپنی حدود اور طریقہ کار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں کہ قرض لینے والا شخص
جان بوجھ کر بنک کا قرضہ ہڑپ کرنے کے لئے حالات پیدا کرتا ہے۔ ایسے لوگ نیب کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں 50 ہزار قرض نادہندگان کے مقدمات زیر التواء ہیں۔ اگر ان مقدمات کی فوری پیروی کی جائے تو بنکوں کی رقم واپس آسکتی ہے۔ رانا محمد حیات نے کہا کہ قرضہ معاف کرنے والے خود کو دیوالیہ ڈیکلیئر کرتے ہیں۔ ماضی
میں سیاسی حکومتوں نے ساٹھ ساٹھ کروڑ معاف کئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف دور میں بھی قرضے معاف ہوئے ٗپارلیمنٹ کو اس حوالے سے قانون سازی کرنی چاہیے۔ یہ توجہ مبذول نوٹس کمیٹی کے سپرد کرکے آٹھ دنوں میں اس پر رپورٹ طلب کی جائے ٗپاکستانی قوم کی اربوں روپے لوٹی ہوئی رقم واپس لانے کے لئے ہمیں کردار ادا کرنا چاہیے ٗ اگر اس اسمبلی نے یہ قانون نہ بنایا تو پوری قوم سے کہتا ہوں کہ آئندہ الیکشن میں کسی کو ووٹ نہ دیا جائے۔قومی پیسہ واپس لایا جائے۔ جو اس بل کی حمایت نہیں کرے گا قوم اس کو ووٹ نہیں دے گی۔ اگر یہ پیسے واپس نہ آئے تو ہم قومی مجرم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک قرضے معاف کرانے والوں کی فہرست ایوان میں پیش کی جائے تاکہ کروڑوں کی گاڑیوں میں پھرنے والے لوگوں کو بے نقاب کیا جاسکے۔ یہ ایک بہت بڑی قومی خدمت ہوگی۔ لوٹی ہوئی رقم واپس لانے سے ہر گھر میں پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاسکے گا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے کہا کہ یہ معاملہ سینٹ کی کمیٹی میں بھی ہے۔ 1990ء سے معاف کرائے گئے قرضوں کی فہرست سینٹ کی کمیٹی کو فراہم کردی گئی ہے۔ سپیکر
نے توجہ مبذول نوٹس قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ 15 دنوں میں اس پر رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔ سپیکر نے کہا کہ جن کے پاس قرضوں کے حوالے سے 50 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں انہیں بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے پونے 5 سال پورے ہوگئے ہیں‘ انتخابات میں تین ماہ سے کم وقت رہ گیا ہے۔ ہم نے انتہائی نامساعد حالات میں پانچ سال پورے کئے ہیں۔
Urdu Khabrain
Business Khabrain, Business News, Business Urdu News, Pakistan Business News, Pakistani News, Top Business News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Business News, بزنس
Sunday, 17 June 2018
کتنے ہزار پاکستانیوں کے کھربوں روپے کا قرضہ معاف کروا لیا؟؟انتہائی تشویشناک اعداد و شمار جاری
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment