Sunday, 29 July 2018

کیا عمران خان کی 5 حلقوں سے جیت پارٹی کو بھاری پڑے گی؟

https://is.gd/qqrOlP



تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان وزیراعظم بنیں گے، لیکن 135 ارکان کیسے پورے ہوں گے؟کیا پی ٹی آئی سربراہ کی 5 حلقوں سے جیت پارٹی کو بھاری پڑے گی ؟

قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کےلئے تحریک انصاف کا جمع ،تفریق کا عمل جاری ہے ،نمبر گیم میں پی آئی کا 115 کا ہندسہ کم پڑنے لگا۔

ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے 4،4 کے ساتھ ممکنہ اتحاد میں شامل ہوئے تو ارکان کی تعداد 123 ہوجائے گی ۔

تحریک انصاف کے اس 123 کے ہندسے میں اگر متحدہ قومی موومنٹ کے 6،گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے 2 اور آزاد ارکان جن کی تعداد 6 کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد 137 تک پہنچ جائے گی ،یوں پی ٹی آئی اور عمران خان کی مراد پوری ہوجاتی ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین جو اسلام آباد، بنوں، میانوالی ، لاہور اور کراچی کے پانچ حلقوں سے پارٹی امیدوار تھے اور کامیاب رہے ،انہیں ان میں سے 4 نشستیں چھوڑنی پڑیں گی ،جس کے بعد پھر اعداد وشمار کا ہیر پھیر سامنے آجائے گا۔

25 جولائی کے عام انتخابات کے بعد نیشنل اسمبلی کے آخری اسٹاپ پر اقتدار ایکسپریس کی سواریوں میں کون کون شامل ہوگا، حکمرانی کی ٹرین کا انجن تو پی ٹی آئی کے پاس ہے ،جو اس وقت 115 سواریوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، لیکن عمران خان کو وزیراعظم کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھانے کے لیے اسے ایک دو نہیں کئی جوڑ توڑ کرنے ہوں گے۔

135 کا گرین سگنل کراس کرنے کے لیے مزید 22ارکان کی ضرورت پڑے گی۔

قومی اسمبلی کے نمبر گیم میں تحریک انصاف کی قیادت میں ممکنہ حکمرا ں اتحاد میں پاکستان مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی چار چار نشستوں کے ساتھ موجود ہیں ،137کے جادوئی نمبر تک خود کو جوڑے رکھنے کے لیےآزاد ارکان کے ساتھ ایم کیو ایم پاکستان کا انتظار بھی کرنا پڑے گا۔

ایم کیو ایم نے ابھی تک فیصلہ نہیں کرسکی کہ حکمراں اتحاد کا حصہ بن کر فائدہ ملے گا یا اپوزیشن میں بیٹھ کر خود کو منوانا صحیح فیصلہ ہوگا،اگر ایم کیو ایم کے6 ارکان تحریک انصاف کے ساتھ مل گئے تو بھی جی ڈی اے کے2 ارکان کے ساتھ مزید 6 آزاد ارکان کی ضرورت پڑے گی،تب ہی137کا آنکڑا فٹ ہوسکے گا۔

دوسری جانب مخالفین کے ممکنہ اتحادمیں پاکستان مسلم لیگ ن 64،پیپلز پارٹی 43،ایم ایم اے12، اے این پی1 سیٹ کے ساتھ موجود ہیں جن کا مجموعی عدد 120 بنتا ہے،ایم کیو ایم کے 6 اور13 آزاد ارکان کے ساتھ ممکنہ طور پر یہ گٹھ جوڑ 139 تک پہنچ سکتا ہے۔

بلاول بھٹو پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ وہ اس اتحاد میں حکومت بنانے کے لیے شامل نہیں ہوں گے،تو اپوزیشن تو اگلے پانچ سال بڑی بازی کھیلنے کے لیے تیار ہے۔

تحریک انصاف کے لیے 137 کا ہدف اب بھی پہاڑ بنا ہوا ہے،یہ مشکل اس وقت زیادہ بڑی ہوجائے گی جب عمران خان کو اپنی 5 میں سے 4 نشستیں چھوڑنا پڑیں گی،تب 115 کا ہندسہ مزید گر کر 111 پر گرے گا اور پھر کھیل صفر سے شروع کرنا ہوگا۔


Urdu Khabrain

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...