https://is.gd/PHkeqp
اکیسویں فیفا فٹبال ورلڈ کپ2018ء کی بات ہو اور پاکستان کا ذکر نہ آئے، یہ کیسے ممکن ہے؟ ہمارے ہنر مندکاریگروں کی بنائی گئی فٹبال ماضی میں کئی بارفیفا کے مختلف ورلڈ کپ کی زینت بنتی رہی ہے مگرروس میں ہونے والے ایونٹ کے دوران فٹبال ورلڈکپ کی تاریخ میں پہلی بار ایک میچ کے ٹاس کا سکّہ، تین دہائیوں سے فٹبال کی سلائی کرنے والے پاکستانی خاندان کے 15سالہ فرزند احمد رضا نے اچھالا تھا۔ اس وقت فیفا ورلڈ کپ اپنے اختتامی مراحل کی جانب گامزن ہےاور فائنل میں یورپ کی دو ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
چونکہ فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیموں کا تعلق یورپ سے ہی ہے تو ہم نے سوچا کہ کیوں نہ آج آپ کو حیران کن تعمیراتی عجائبات میں شمار ہونیوالےیورپ کے فٹبال اسٹیڈیمز کے بارے میں بتاتے چلیں۔جنون اور مقبولیت کے لحاظ سے فٹبال کا شمار دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں ہوتا ہے اور یورپ میں اس کھیل کے ذوق وشوق کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں دنیا کے شاندار فٹبال اسٹیڈیمز قائم ہیں، جن کے تعمیراتی ڈھانچے کو دنیا کے تعمیراتی عجائبات میں شمار کیا جاتاہے۔ آئیے ان فٹبال اسٹیڈیمز کا مختصر تعارف ملاحظہ کرتے ہیں۔
ایستادیو سنتیاگو برنابیو، میڈرڈ

دنیا کے ایک اور مشہو ر فٹ بال کلب ریئل میڈرڈ کی ٹیم کے لیے یہ 1947ءمیں تعمیرکیا گیا،اس کی دوبار 2001ء اور2006ء میں تزئین نو کی گئی۔یہ اسٹیڈیم بھی تین ماہرینِ تعمیرا ت مینوئل منوز موناسٹریو،لوئس المانی سولر اور انتونیو لامیلا کے تخیل کا اعجاز ہے۔اس میں تماشائیوں کی گنجائش85,450ہے۔
اولڈ ٹریفورڈ،مانچسٹر

دنیا کےسب سے جانے مانےفٹ کلب مانچسٹر یونائیٹڈکی ٹیم کے لیے یہ اسٹیڈیم 1910ء میں تعمیرکیاگیا، جس کی تزئین نو 2006ء میں کی گئی۔ یہ آرکی بالڈ لیچ کا ڈیزائن کردہ ہے ،جہاں75,730 تماشائی کھیل دیکھ سکتے ہیں۔
دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کھیل کوتفریح اور صحت مند سرگرمیوں کے طور پر جس اشتیاق سے لیتی ہیں اس میں ہمارے لیے تقلید کے کئی اسباب موجود ہیں۔
ہم مین اورویمن فٹبال ٹیم رکھتے ہیں لیکن کبھی سنجیدگی سے شاندار فٹبال اسٹیڈیم تعمیر کرنے پر توجہ نہیں دی۔اب وقت آگیا ہے کہ حکومتِ پاکستان بھی دنیا کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ میں شرکت کا شرف حاصل کرنے کیلئے اپنی صائب کوششیں کرے اور دنیا کے ان بہترین سوکر اسٹیڈیمز کے معیار کا فٹبال اسٹیڈیم پاکستان میں بھی تعمیر کرے۔
پارکدیس پرنسز،پیرس

اسےپیرس سینٹ جرمین ٹیم کے لیے1972ء میں قائم کیا گیا تھاجو ماہرِ تعمیرات راجر ٹیلی برٹ کے تخیل کی کاوش ہے،جب کہ اس میں تماشائیوں کی گنجائش 47,929ہے۔
اسپروس لوئس اسٹیڈیم، ایتھنز

ایتھنزفٹبال کلب کے لیے1982ء میں یہ اسٹیڈیم تعمیرکیا گیا اور 2004ء میں اس کی تزئین نو کی گئی۔
یہ سنتیاگو کلیٹریوا کے فن کا شاہکار ہے جس میں70 ہزار تماشائی سما سکتے ہیں۔
سینٹ جیمز پارک، نیو کیسل

نیوکیسل یونائٹیڈ ایف سی کے لیے یہ اسٹیڈیم1892ء میں تعمیرکیا گیا جس کی توسیع 2000ء میں کی گئی۔
ٹی ٹی ایچ آرکیٹیکٹس اورگیٹ شیڈ یونے اس کا منفرد ڈیزائن بنایا ۔ یہاں 52 ہزار تماشائی سما سکتے ہیں۔
سگنل ادونا پارک،ڈورٹمنڈ

یہ بروشیا ڈورٹمنڈ ٹیموں کے لیے 1974ء میں بنایا گیا جسے2006ء میں تزئین نو کے عمل سے گزارا گیا۔
اس کا آرکیٹیکچر پلاننگ گروپی نے بنایا جبکہ تماشائیوں کی گنجائش 80,667ہے۔
لُژنکی اسٹیڈیم، ماسکو

روس کی سوکر ٹیم کے لیے یہ اسٹیڈیم1956ء میں بنایا گیا تھاجس کی تزئین نو2017ء میں کی گئی۔
اس اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی گنجائش 81ہزار ہے۔
نیشنل اسٹیڈیم، وارسا

پولش نیشنل سوکر ٹیم کے لیے2012ء میں تعمیر کیے گئے اس اسٹیڈیم کا شاندار ڈیزائن دو ماہرین آرکیٹیکٹ نے بنایا تھا، جس میں تماشائیوں کی گنجائش58,145ہے۔
Urdu Khabrain
No comments:
Post a Comment