Tuesday, 17 July 2018

خبروں سے آگے

https://is.gd/LzqnXd




’’مستری‘‘ ربورٹ

ماہرین اس جدید دور میں ہر کام کے لیے مختلف طر ح کے روبوٹس تیار کررہے ہیں۔ چند دنوں قبل فرانس کی تعمیراتی کمپنی نے ایک ایسا مستری روبوٹ بنا یا ہے جو تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے پانچ افراد کے لیے ایک مکمل گھر صرف 54 گھنٹوں میں تیار کر سکتا ہے۔ اس روبوٹ نے 1022 مربع فٹ کا ایک گھر تیار کیا ہے، جس کو تیار کرنے میں دودون اور چھ گھنٹے لگے ہیں ۔

ماہرین اس دورانیہ کوکم کرکے صرف 33 گھنٹے پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ عام گھروں کے مقابلے میں 20 فی صد کم خرچ میں انتہائی موثر اور مضبوط گھر تعمیر کرتا ہے ۔تجربےکے لیے کمپنی نے فرانس کے شہر نانٹیس میں ایک گھر تیار کرکے روبوٹ کا عملی مظاہرہ کیا ہے ۔کمپنی کے مطابق یہ پہلا تھری ڈی گھر ہے،جس میں لوگ مستقل طور پر رہ سکتے ہیں ۔روبوٹ پہلے آہستہ آہستہ زمین کی سطح سے دیوار اُٹھا تا ہے، پھر بغیر کسی مداخلت کے پولی یوریتھین کی دو کنکریٹ کی ایک پرت سینڈوچ کی طرح بنا تا رہتا ہے ۔روبوٹ کے نوزل سے پولی یوریتھین شیونگ کریم کی طرح خارج ہوتا ہے جو پھیلتے پھیلتے کنکریٹ میں سما جا تا ہے ۔اس میٹریل کی وجہ سے گھر قدرتی طور پر گرم یا سرد رہتا ہے ۔اس کے اندر ایک سوفٹ ویئر نصب ہے ،جس کی مدد سے وہ لیزر شعاعوں کی رہنمائی میں کام کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مکانوں کی تعمیر کو آسان اور کم خرچ بناتے ہوئے ایک انقلابی عمل ثابت ہوگی۔

دیوقامت ڈائنوسارز کی باقیات دریافت

اس کرہ ٔ ارض پر پہلے دیوقامت جانور رہا کرتے تھے جن میں سے کچھ کا وزن ایک خلا ئی شٹل جتنا تھا ۔ماہرین نے حال ہی میں ارجنٹینا میں ایک نئی دریافت سے دیوقامت جانوروں کے بڑھنے سے متعلق نئے شواہد حاصل کیے ہیں ۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ یہ جانور اپنے جسم میں موجود پرندوں جیسے پھیپھڑوں اور تیزی سے بڑھنے کی صلاحیت کو استعمال کرتے تھے ۔پرندوں جیسے پھیپھڑے دیوقامت مخلوق کے در جہ ٔ حرارت کو کنٹرول رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے ،جس کی وجہ سے ان کی جسامت ایک خلائی شٹل کے برابر ہو جاتی تھی ۔ماہرین کو کل چار ڈھانچے ملے ہیں ۔یہ اب تک در یافت ہونے والے ڈائنوسارز کی ایک نئی قسم ہے۔


 
خبروں سے آگے

ماہرین نے اس کو ’ ’انجینشیا پرائما‘‘ (Ingentia prima) کا نام دیا ہے ۔یہ لاطینی لفظ ہے ، جس کا مطلب اولین دیوقامت جانور ہے۔اس تین کروڑ سال قدیم جانور کا وزن تقریبا ً10 ٹن رہا ہوگا اور یہ گروہ کی شکل میں رہنا پسند کرتے تھے ۔ڈائنو سارز کی یہ نئی قسم ایک گروہ پوڈومور فس ،یعنی چھپکلی کے پیروں والے ڈائنوسارز کی قسم والے گروہ سے تعلق رکھتی ہے ۔10میٹر لمبی گردن اور چھوٹی دم والے یہ ڈائنوسارز زمین پر چلنے والے جانور وں میں سب سے بڑے اور وزنی جانور تھے ،تا ہم ماہرین کے مطابق ان سے بھی دیوقامت اور عجیب الخلقت ڈائنوسارز کرۂ ارض پر موجود ہوں ،جن کی در یافت ابھی ہونا باقی ہے لیکن اب تک جتنی بھی دریافتیںہوئی ہیں ،ان میں سے ارجنٹینا میں در یافت ہونے والا ڈھانچہ سب سے بڑا اور وزنی ہے۔

پرواز کے دوران شکل تبدیل کرنے والا روبوٹ

جاپانی ماہرین نے سانپ کی شکل کا ایک روبوٹ تیار کیا ہے ۔یہ روبوٹ پرواز کے دوران اپنی شکل تبدیل کر لیتا ہے اور آڑھی ترچھی جگہوں سے بآسانی نکل جا تا ہے ۔یونیو رسٹی آف ٹوکیو کی جے ایس لیب نے اسے تیار کیا ہے اور اس کو ماہرین نے ’’ڈریگون ‘‘ کا نام دیا ہے ۔یہ بالکل سانپ کی مانند دکھائی دیتا ہے ۔یہ گھر کے اندر بھی بآسانی پرواز کر سکتا ہے ۔اسی بناء پر اسے اژدہے کا نام دیا گیا ہے ۔اسے ایک سیدھی رسی کی طرح بنایا گیا ہے جو زگ زیگ کرتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچتاہے ۔علاوہ ازیں یہ چوکور اور چھلا نما ساخت میں بھی ڈھل جاتا ہے ۔


 
خبروں سے آگے

ماہرین کے مطابق یہ اُڑن روبوٹ کی ایک نئی قسم ہے ۔اس کی تیاری میں اعلیٰ درجے کی ریاضی کا استعمال کیا گیا ہے ،کیوں کہ اس کو اشکال تبدیل کرنے کے لیے موثر ہدایات کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے سافٹ ویئر میں بنیادی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں ۔ایک روبوٹ میں کئی موڈیولز ہیں ،جن میں ہر ایک میں بیٹری اور مخصوص سر کٹ لگا ہوا ہے او ر ہر ماڈیول کی خاص بات یہ ہے کہ اس میںڈکٹ فین ہے جو کئی سمتوں میں مڑ سکتا ہے ۔یہ تمام ماڈیولز جڑ کر ڈریگن کو اُڑن ٹرین بناتے ہیں ۔ماہرین کاکہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں اس میں دائیں اور بائیں جانب بازو اور گر فت کرنے والے شکنجے بھی لگائیں گے جو روبوٹ کو ایک نیا انداز دیں گے ۔اس کی مدد سے روبوٹ دیگر کاموں کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا۔

اب روبوٹ فلموں کے خطرناک اسٹنٹ بھی انجام دیں گے

ڈزنی نے حال ہی میں ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے،جو فلموں میں خطر نا ک اسٹنٹ کرنے کی صلا حیت رکھتا ہے ۔یہ ہوا میں انسانوں کی طرح قلا بازی بھی کھا سکتا ہے۔ماہرین کی جانب سے اس کو ’’اسٹک مین ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ماہرین نے اس کو مختلف کر داروں میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ اسٹک مین اورنز لائٹ ایئر کی جگہ بھی لےسکے گا ۔ڈزنی تھیم پارک میں یہ روبوٹ مختلف کرتب دکھانے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔


 
خبروں سے آگے

دوسری جانب اس روبوٹ کو انٹرایکٹو اور پھرتیلا بنا کر اس سے چھلانگیں لگانے اور ہوا میں اڑنے جیسے کرتب بھی دکھائے جائیں گے ،جس کے بعد فنکاروں اور اسٹنٹ کرداروں کو اپنی جان خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ماہرین نے اس روبوٹ کو مزید انسانی روپ دینے پر کام شروع کیا ہے۔ اس پر جدید الیکٹرانکس سینسر، ایسیلیرومیٹر، جائرواسکوپس اور لیزر رینج فائنڈرز لگائے گئے ہیں۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنے پیٹ اور کمر کے بل بھی گرسکتا ہے اور ہوا میں مختلف طرح کے پوز بھی دیتا ہے۔ ماہرین نے اسے تفریح کے لحاظ سے ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے۔



Urdu Khabrain

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...