https://is.gd/rt9SLB
موسیقار گھرانے سے تعلق رکھنے والا ننھا بچہ جس نے تین سال کی عمر سے گانا شروع کیا اور سب کو حیران کرتا چلا گیا یہاں تک کہ وہ وقت بھی آیا جب اس نے بالی وڈکی نگری میں قدم رکھا اور سونو نگم کے نام سے شہرت کی بلندیوں کو چھو گیا۔
سونو نگم 30جولائی1973ء کو بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر فرید آباد میں پیدا ہوئے ، انہوں نے بنگالی، مراٹھی، نیپالی، بھوجپوری، گجراتی، ہندی کے علاوہ بھی کئی زبانوں میں گانے گائےہیں۔
جب انہوں نے اپنے والد کے ساتھ ’’محمد رفیع‘‘ کا مشہور گیت '’’کیا ہوا تیرا وعدہ‘‘ اسٹیج پر گایااور سب کو حیران کردیا،کسی کو کیا پتا تھا کہ 3سال کا یہ ننھا بچہ اپنی آواز کے جادو سے سب کا دل جیت لے گااور پھر سونو نگم نے اپنے والد کے ساتھ شادیوں اور محفلوں میں گانا شروع کردیا۔
سونو نگم کو اداکاری کا بھی بہت شوق تھا اسی لیے انہوں نے گانے کے ساتھ ساتھ بطور چائلڈ آرٹسٹ بھی کئی فلموں میں کام کیا، و ہ فلم بے تاب میں سنی دیول کے بچپن کا کردار کرتے نظر آئے تھے اور اس کے بعد بھی کئی فلموں میں انہوں نے کام کیا۔
اپنی ابتدائی جوانی کے دور میں ہی انہوں نے مختلف موسیقی کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا اور کامیاب بھی ہوئے، پھر انہوں نے 18سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ ممبئی کا رخ کیا تاکہ اپنے فنی سفر کا باقاعدہ آغاز کر سکیں۔

شروع میں ممبئی میں لگاتار محنت اور کوششوں کے بعد انہوں نے محمد رفیع کے مشہور گانے گانا شروع کیے جن میں’’رفیع کی یادیں‘‘ سیریز سرفہرست ہے،خاس کے بعد سے ہی ان پر 'محمد رفیع کے نقال کی چھاپ لگ گئی۔
انہوں نے پہلا فلمی گیت 1990 ء میں فلم 'جانم میں گایا جو کبھی منظرعام پر آیا ہی نہیں، انہیں کس طرح گلشن کمار کی سپورٹ میں ملی یہ بات بھی کافی دلچسپ ہے، یہ اس وقت کی بات ہے جب انہوں نے بچپن میں کئی گلوکاری کے مقابلے جیتے تھے حالانکہ سونو نگم پڑھائی میں کافی تیز تھے لیکن گانے میں ان کا کا فی نام ہو رہا تھا جس کی وجہ سے ان کے والد 12ویں کے امتحان کے بعد ان کو ممبئی لے آئے اور یہاں آکر ان کی جدوجہد کا آغاز ہوا۔
کبھی سونو نگم روتے روتے اسٹوڈیو سے نکلتے کیونکہ ان کا گاناکوئی اور سنگر ریکارڈ کرادیتا تھا تاہم ان کی بھی فریاد سن لی گئی اور انہوںنے ایک گانا گایا ’’او آسمان والے ‘‘ جوسپر کیسٹ ٹی سیریز کے گلشن کمار کو بہت پسند آیا اور اس کے بعد انہیں پس پردہ گلوکار کے طور پر گلشن کمار کی فلم آجا میری جان میں سر بکھیرنے کا موقع ملا۔
سونو نگم نے 1995 ء میں البم ’’بےوفا صنم‘‘ کے لیے ایک گانا اچھا صلہ دیا گایا جس سے ان کو باقاعدہ طور پر ایک پس پردہ گلوکار کی حیثیت سے پہچان ملی، پھر آہستہ آہستہ سونو کو فلموں میں گانا گانے کی آفرز ملنا شروع ہوئیں۔

1997ءمیں فلم ’’بارڈر‘‘ میں ایک گانے ’’سندیسے آتے ہیں‘‘ سے وہ ابھر کر سامنے آئے، جس کے موسیقار انوملک تھے۔
1997ءکی ہی ایک اور سپر ہٹ فلم پردیس کے لیے ایک گانا 'یہ دل دیوانہ گایا جس نے ان کے اوپر لگی محمد رفیع کی چھاپ کو مٹانے میں مدد کی۔
اس کے بعد ہی انہوں نے اپنا ایک منفرد انداز اپنایا اوروہ ہر نئے ابھرتے ہوئے گلوکار کے لیے رول ماڈل بن گئے، کئی سال تک سونو موسیقی پر چھائے رہے۔
اُنہوں نے لا تعداد فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگایا اور اُن کو بے شمار اعزازات سے بھی نوازا گیا، اُن کا گانا ’’کل ہو نہ ہو‘‘ بھی بے حدمقبول ہوا۔
سونو نے الگ آواز،انداز اور گانوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے حوالےسے اپنی پہچان بنائی ہے۔
سونو نے بہت خوبصورت تلفظ کے ساتھ نہ صرف اردو بلکہ بنگالی، پنجابی، تامل، تیلگو اور مراٹھی میں بھی اپنی گانے گائے ہیں۔
گلوکار بننے کے بعد بھی سونو نگم کے سر سے ایکٹنگ کا بھوت نہیں اترا ،اس لیے انہوں نے موسیقی کے ساتھ ساتھ فلم ’لو ان نیپال‘ اور ’جانی دشمن‘ میں بطور ہیرو کام کیا لیکن یہ فلمیں باکس آفس پر کچھ خاص کمال نہ دکھا سکیں،تاہم انہوں نے پلے بیک سنگنگ میں ایسا مقام حاصل کیا جو ہر کسی کے لیے حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔
Urdu Khabrain
No comments:
Post a Comment