Tuesday, 17 October 2017

نظام شمسی میں نویں سیارے کے شواہد مل گئے

نظام شمسی میں ایک اور سیارے کے شواہد مل گئے جو خاصا بڑا ہے۔ نظام شمسی پرتحقیق کرنے والے ادارے کال ٹیک کو کچھ ایسے شواہد ملے ہیں جن کی بناء پر کہا جا رہا ہے کہ نظام شمسی میں ایک اور خاصا بڑاسیارہ موجود ہے۔ اندازا یہ سیارہ نیپچون کے حجم جتنا بڑاہے جو سورج کے گرد چکر لگاتا ہے۔ نئے سیارے کا مدار پلوٹو سے خاصا دور ہے۔


کال ٹیک کے تحقیق دانوں نے اس سیارے کو’’ پلینٹ نائن ‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ نیا سیارہ ہماری زمین سے 10 گنا بڑا ہے جبکہ اسکا مدار سورج سے 20 گنا دور ہے۔ سورج کے گرد اایک چکر مکمل کرنے میں اس سیارے کو 10 سے 20 ہزار سال لگتے ہیں۔


کال ٹیک کے مطابق اس اعلان کا مقصد یہ نہیں کہ نظام شمسی میں ایک نیا سیارہ ہے۔ خلا میں دور موجود سیارے کی موجودگی فی الحال نظریاتی حد تک پہنچ سکی ہے اور اب تک اس کا مشاہدہ نہیں کیا جا سکا۔ ماہرین فلکیات اس سیارے کو نظام شمسی میں تلاش کررہے ہیں جس کی پیشگوئی تحقیق دانوں نے کی ہے۔


جنوری 2015 میں کال ٹیک کے ماہرین فلکیات کونسٹینٹین بیٹیجن اور مائیک براؤن نے اعلان کیا تھا کہ انھیں اپنی تحقیق کے دوران ایک غیر معمولی حجم کے سیارے کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ یہ سیارہ ہمارے نظام شمسی کے بیرونی مدار میں چکر لگا رہا ہے۔


برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ پیشگوئی ریاضی کے تفصیلی حساب کتاب اور کمپیوٹر کے ذریعے کیے جانے والے سمولیشن کی بنیاد پر کی گئی ہے اور اب تک اس کا براہ راست مشاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق نواں سیارہ یورینس یا نیپچون جتنی بڑی جسامت کا ہوسکتا ہے اور اس کا حجم زمین کے مقابلے 10میں گنا زیادہ ہوگا۔ یہ سیارہ نیپچون کے مقابلے میں سورج سے 20 گنا زیادہ دور ہو سکتا ہے۔


بین الاقوامی خلائی ادارے ناسا کے شعبہ پلینیٹری سائنس کے ڈائریکٹر جم کرین کے مطابق سیاروں پر تحقیق کرنے والے سائنسدان کی حیثیت سے نئے سیارے کا امکان دلچسپی کی بات ہے۔ تاہم یہ کسی سیارے کی دریافت یا مشاہدہ نہیں۔ یہ یقین سے کہنا قبل ازوقت ہے کہ کوئی پلینٹ ایکس وجود رکھتا ہے۔ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ محدود مشاہدات اور حساب کتاب کی بنیاد پر ہے۔ یہ اس عمل کی شروعات ہیں اور انجام بہت دلچسپ ہو سکتا ہے۔


پلینٹ ایکس سیارہ ابھی دریافت نہیں ہوا اور سائنسدان حث کر رہے ہیں کہ کیا یہ وجود بھی رکھتا ہے۔کال ٹیک کے ماہرین فلکیات نے اپنے تجویز کردہ سیارے کا نام 'پلینٹ نائن' رکھا ہے لیکن کسی خلائی چیز کا نام رکھنے کے حقوق اس فرد کے پاس ہوتے ہیں جس نے اسےدریافت کیا ہو۔ اس سے پہلے کی جانے والی تحقیقات کے دوران سیارہ نیپچون کے بعد جس بہت بڑے سیارے کی تلاش کی جا رہی تھی اسے 'پلینٹ ایکس' کا نام دیا گیا تھا۔


اگر پیش گوئی کے مطابق یہ سیارہ دریافت ہو جاتا ہے تو اس کے نام کی منظوری انٹرنیشنل ایسٹرانومیکل یونین دے گی۔

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...