Wednesday, 4 October 2017

قطری شہزدے کے خموں سے چیخے-اندر کیا ہوتا ہے

ٹھنڈی آہ بھر کر بات کو اِدھر ادھر کرنے کی کوشش کی لیکن سکندر کے آگے اس کی ایک نہ چلی او رچاچا غفورکو مجبوراََ اپنی داستان سنانا پڑھی اور مستری سکندر کو بے تکلفی سے مخاطب کرتے ہوئے بولا کہ سکندرے تو تو میرا بچپن کا دوست ہے تیرے سے کیا چھپا ہے پھر بھی میرے منہ ہی سے سننا چاہتا ہے تو سن شائد میرے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہو جائے۔ بات در اصل یہ ہے کہ بیوی سات سال سے چارپائی پہ لگی ہوئی ہے سانس کا مسئلہ اکثر رہتا تھا لیکن پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کسی ہسپتال نہ لے جا سکا کہ پتا نہیں کتنے پیسے مانگ لیں گئے تو گھر میں فاقہ ہو جائے گا کچھ دن پہلے بے نظیر سپورٹ فنڈ کے چند ہزار ملے تو ہسپتال لے گیا،

ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد بتایا کہ دمے کا مرض ہے لاپرواہی کی وجہ سے بگڑ گیا ہے پانچ سو الگ رکھ کر باقی پیسے ڈاکٹر کے حوالے کر دیے، گھر پہنچے تو تیمارداروں کی لائنیں لگ گئی اور باقی پانچ سو لوگوں کی چائے پانی میں لگ گیا اب دو دن کی دوائی باقی ہے مزدوری اتنی کرتا ہوں جس سے دو ٹائم کا کھانا کھا سکوں ، اب تو ہی بتا کہ اس حالت میں مجھے ہنسنا چاہیے یا رونا چاہیے ؟ ماحول افسردہ دیکھ کر چا چا نے سکندر سے پوچھاکہ اور کچھ بھی پوچھنا ہے یا جان چھوڑنے کے بھی پیسے لے گا؟ سکندر کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ آکر غائب ہو گئی کیوں کہ اس کے پاس اب پوچھنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...