https://goo.gl/ifb2Ar
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) 17 سالہ نوجوان چینی لڑکی آئی فون 8 کے بدلے اپنا کنوارہ پن بیچنے کیلئے ہوٹل پہنچی اور کمرے میں داخل ہوئی تو مرد کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی لیکن اگلے ہی لمحے کمرے میں موجود باتھ روم سے 3 نیم برہنہ مرد نکل آئے تو لڑکی کے پیروں تلے سے زمین ہی نکل گئی اور بھاگنے کی کوشش کی مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔
’شیاﺅ شین ‘ نے ایک آن لائن فورم پر اشتہار دیا کہ وہ 20 ہزار آر ایم بی یعنی (2 ہزار 287 یورو) کی خاطر اپنا کنوارہ پن بیچنے کو تیار ہے کیونکہ وہ آئی فون 8 خریدنا چاہتی ہے۔ لیکن اس کیساتھ وہ کچھ جو ہونے جا رہا تھا جس کا اس نے خوابوں میں بھی نہ سوچا ہو گا۔
اشتہار لگانے پر لڑکی سے ایک لڑکی ہی ملاقات کرنے آئی جس نے خود کو امیر کبیر شخص کی سیکرٹری بتایا اور اسے ایڈوانس کے طور پر 500 یوآن دیتے ہوئے وقت اور جگہ کا تعین کر لیا۔ نوجوان شیاﺅ شین مقررہ وقت پر ہوٹل پہنچ گئی جہاں اس کے ’گاہک‘ نے استقبال کیا۔ دونوں بیڈ پر بیٹھ گئے اور بات چیت شروع ہو گئی جبکہ شیاﺅ شین کا اعتماد جیتنے کیلئے گاہک نے آئی فون 8 بھی اس کے حوالے کر دیا۔
لیکن اگلے ہی لمحے انتہائی خوفزدہ کر دینے والے مناظر شیاﺅ شین کی آنکھوں کے سامنے گھومتے ہیں جب کمرے کے باتھ روم سے تین افراد باہر آ جاتے ہیں جن میں سے ایک کے ہاتھ میں کیمرہ ہوتا ہے اور وہ اسے کہتے ہیں کہ ”انہیں کچھ مزے کرنے ہیں۔“ لڑکی یہ سب کچھ کر دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کرتی ہے مگر وہ اسے پکڑ کر بیڈ پر پھینک کر جکڑ لیتے ہیں اور اسے معلوم پڑ جاتا ہے کہ اب اس کا ریپ ہو گا اور اس کی ریکارڈنگ بھی کی جائے گی۔
ابھی وہ اس صدمے میں تھی اور چیختے چلاتے ہوئے خود چھڑانے کی ناکام کوشش میں مصروف تھی کہ اچانک ایک لڑکی کمرے میں داخل ہوتی ہے اور پھر سب کچھ بدل جاتا ہے۔ وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ ”نانا ہینائینگ“ شو کی میزبان ’نانا‘ تھی جس نے شیاﺅ شین کا اشتہار دیکھ کر اسے سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔
یہ سارا معاملہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جو بیجنگ کی ایک ”ویڈیو بلاگر “(ویلاگر) یعنی ”نانا“ نے شیاﺅ شین کو سبق سکھانے کیلئے بنایا تھا۔ نانا نے اشتہار دیکھنے کے بعد امیر کبیر ’گاہک‘ کی سیکرٹری بن کر مذکورہ نوجوان لڑکی سے ملاقات کی۔
دونوں کی یہ ملاقات ایک ٹی ہاﺅس میں ہوئی جہاں شیاﺅ شین نے نانا کو بتایا کہ اس کی ایک دوست امیر اجنبی کو کنوارہ پن بیچ کر 20 ہزار یوآن کما چکی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ بھی ایسا ہی کرنا چاہتی ہیں کیونکہ اسے آئی فون 8 خریدنا ہے۔
نانا کے پروگرام میں ناقص معاشرتی رویوں اور انسانوں کو درپیش مشکلات سے پردہ اٹھایا جاتا ہے، اس لئے ملاقات کے دوران ہی نانا نے شیاﺅشین کو اپنا ارادہ بدلنے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانی اور کہا کہ ”مجھے صرف اتنا ہی تو کرنا ہے کہ میں اس کیساتھ لیٹ جاﺅں گی اور ہم دونوں کو وہ مل جائے گا جو ہم چاہتے ہیں۔“
نانا نے ہی اسے 500 یوآن ایڈوانس کے طور پر ادا کئے اور جگہ اور وقت کا تعین کر لیا لیکن نوجوان لڑکی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کیساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ شیاﺅ شین کو مردوں نے جکڑا ہوتا ہے کہ ’نانا‘ کی کمرے میں اینٹری ہوتی ہے اور پھر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے جس پر وہ بھی حیران ہوتے ہوئے اٹھ بیٹھتی ہے۔ نانا چلاتے ہوئے لڑکی سے کہتی ہے کہ ”اب تمہیں ڈر لگ رہا ہے؟ خیر، اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ صرف ایک فون کی خاطر کچھ بیچنا بالکل ٹھیک نہیں ہے۔“
ویڈیو کے آخر میں نانا تمام مردوں کو کمرے سے باہر نکل جانے کا حکم دیتی ہے تاکہ وہ لڑکی کو لیکچر دے سکے۔ چین میں بہت سے افراد کی جانب سے شو کی صداقت اور اس میں پیش کئے جانے والے کرداروں پر سوال اٹھایا گیا ہے لیکن اکثریت نے نانا کی اس کوشش کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ معاشرے میں موجود انتہائی اہم مسئلے کو پیش کر رہی تھی۔
Urdu Khabrain
Saturday, 27 January 2018
17 سالہ چینی لڑکی آئی فون 8 کی خاطر کنوارہ پن بیچنے کیلئے ہوٹل پہنچی تو کمرے میں داخل ہوتے ہی چار مرد آ گئے، خطرہ دیکھ کر بھاگنے لگی تو مردوں نے پکڑ لیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ہر کوئی لرز اٹھا مگر حقیقت سامنے آئی تو سب عش عش کر اٹھے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment