https://goo.gl/pfvgED
معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایل جی نے ایک اہم ایجاد کے حقِ ملکیت (پیٹنٹ) کی درخواست کی ہے جو ایک اسمارٹ فون کو ٹیبلٹ بناسکتی ہے۔
پیٹنٹ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسمارٹ فون کا اسکرین فولڈ ہوسکتا ہے اور لچکدار اسکرین تہہ ہوکر آدھا رہ جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے اسے ایل جی کا فولڈ ایبل فون قرار دیا ہے۔
اگرچہ اس کی درخواست جولائی 2017 میں دائر کی گئی تھی تاہم اس کی تفصیلات حال ہی میں منظرِعام پر لائی گئی ہیں
ایل جی نے اپنے پیٹنٹ میں 2 طرح کی ایجادات دکھائی ہیں۔ ان میں سے ایک لچکدار ڈسپلے والا ایسا فون ہے جو کاغذ کی طرح فولڈ ہوکر آدھا رہ جاتا ہے۔ دوسری تصویر میں ایک فون ہے جسے’ہائبرڈ ٹیبلٹ‘کا نام دیا گیا ہے۔ ہائبرڈ، 2 خواص والی کسی شے کو کہا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے ان پیٹنٹ خاکوں کو بغور دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ فون کے بیک پینل پر 2 کیمرے ہیں۔ فولڈ ہونے پر اس کا اگلا حصہ معلومات دکھاتا ہے جن میں وقت اور تاریخ ظاہر ہو رہی ہوتی ہیں۔ میش ایبل ویب سائٹ کے مطابق ایل جی بھی اب فولڈ ایبل فون کی جانب بڑھ رہا ہے۔
اس کا مطلب ایسا آئی فون ہے جو آئی پیڈ بھی بن سکتا ہے۔ اس طرح سام سنگ اور دیگر بڑے اداروں کی طرح ایل جی بھی اب فولڈ ہوجانے والے فون پر کام کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ سام سنگ اس سال فولڈ ہونے والے فون پر کام کر رہا
Urdu Khabrain
Pakistan Sci-Tech News, Pakistani News, Sci-Tech Khabrain, Sci-Tech News, Sci-Tech Urdu News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Sci-Tech News, سائنس و ٹیکنالوجی
Sunday, 28 January 2018
ایل جی کی فولڈ ایبل فون کے پیٹنٹ کیلئے درخواست
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment