Sunday, 21 January 2018

پی ایس ایل فرنچائزز اور پی سی بی میں اختلافات کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل)تھری کا انعقاد خطرے میں پڑگیا

https://goo.gl/gfEAMK
لاہور(نیو زڈیسک )پی ایس ایل فرنچائزز اور پی سی بی میں اختلافات کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل)تھری کا انعقاد خطرے میں پڑگیا۔فرنچائزز اور بورڈ میں اختلافات نے پی ایس ایل تھری کا انعقاد خطرے میں ڈال دیا اور ٹیموں کی جانب سے واجبات ادا نہ کئے جانے پر بورڈ مالی مشکلات سے پریشان ہے۔ ذرائع کے مطابق 6 میں سے 5 فرنچائزز

گزشتہ سال نومبر کی ڈیڈ لائن تک واجبات ادا نہیں کر سکی تھیں۔پی سی بی نے واجبات کی ادائیگی کیلئے 15نومبر 2017 تک کی مہلت دی تھی لیکن اس مہلت کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک فرنچائزوں نے بورڈ کو رقم کی ادائیگی نہیں کی۔یو اے ای اور پاکستان میں 22 فروری سے 25 مارچ تک شیڈول تیسرے ایڈیشن کیلیے بورڈ کو درکار رقم میں 50 سے 60 لاکھ امریکی ڈالر کم پڑ جانے کا خدشہ ستا رہا ہے۔ اس حوالے سے پی سی بی حکام سر جوڑ کر کوئی حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، فرنچائزز کے عدم تعاون کی وجہ سے بظاہر بڑی کامیاب نظر آنے والی پی ایس ایل میں دراڑیں صاف نظر آنے لگی ہیں۔ذرائع کے مطابق اگر فرنچائزز کا واجبات کے معاملے میں یہی رویہ جاری رہا تو بورڈ قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ٹیموں کی دوبارہ فروخت پر بھی غور کر سکتا ہے۔ دوسری جانب فرنچائزز کا کہنا ہے کہ پی سی بی سے زرتلافی کا مطالبہ کیا تھا جس پر اس نے دباو ڈالنا شروع کردیا، ٹی 10 کو سپورٹ کرنے پر بھی پی ایس ایل ٹیموں کے مالکان ناراض ہیں،

ان کا کہنا ہے کہ بورڈ خود اس تنازع کو میڈیا میں لے آیا اور پی سی بی کے رویہ کی وجہ سے مالی معاملات خراب ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی کو 22فروری سے 25 مارچ تک متحدہ عرب امارات اور پاکستان میں ایونٹ کے انعقاد کیلئے درکار پانچ سے چھ ملین ڈالرز کے فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے پر پی سی بی کے دفتر میں جمعے کو ایک اعلی سطحی اجلاس بھی ہوا تھا جہاں تیزی سے گزرتے ہوئے وقت کے پیش نظر بحران اور مالی خسارے سے نمٹنے کیلئے نئی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس دوران یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ اس معاملے پر حتمی فیصلے کیلئے فوری طور پر بورڈ آف گورنرز کا اجلاس طلب کیا جائے اور فرنچائز مالکان کے غیرذمے دارانہ رویے کے سبب خطرات سے دوچار پاکستان کے سبب کامیاب برانڈ کو بچانے کیلئے تجاویز طلب کی جائیں۔ذرائع کے مطابق اگر مالکان واجبات کی ادائیگی میں حیلے بہانوں سے کام لیتے ہیں تو پی سی بی کے پاس قانونی طریقہ کار کے تحت تمام فرنچائزوں کو ڈیفالٹ کر کے ان کے حقوق ضبط کرتے ہوئے آئندہ چند ہفتوں میں انہیں بولی کے عمل کے ذریعے دوبارہ فروخت کرنے کا استحقاق موجود ہے۔البتہ ذرائع کے مطابق اس طرح کا کوئی بھی عمل پی سی بی آخری حربے کے طور پر استعمال کرے گا لیکن امید ہے کہ فرنچائز بورڈ کو اس حد تک جانے پر مجبور نہیں کریں گی۔
Urdu Khabrain

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...