https://goo.gl/RzdCCh
ڈیپ فیکس کی مدد سے اب ویڈیو میں نظر آنے والے کسی بھی شخص کے چہرے پر دوسرے شخص کے چہرہ لگایا یا جاسکتاہے۔اس کا استعمال بہت سی واہیات ویڈیوز میں ہوچکا ہے۔
اس طرح کی ویڈیوز بنانے کے لیے جو سافٹ وئیر استعمال ہوتے ہیں، وہ انٹرنیٹ پر آرام سے مل جاتے ہیں ۔
سافٹ وئیر کی عام دستیابی کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ مستقبل قریب میں جعلی واہیات ویڈیو ز کا ایک ایسا سیلاب آنے والے والا ہے ، جو بہت سی زندگیوں کے خاتمے کا باعث بنے گا۔
فی الحال تو اس ٹیکنالوجی سے سیاسی مخالفین کی ویڈیو ز اور پروپیگنڈہ ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں لیکن جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی عام ہوگی، اس کا غلط استعمال بھی بڑھنا شروع ہوجائے گا۔
اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ابھی تک بہت سی اداکاراوں کی جعلی واہیات ویڈیوز بنائی جا چکی ہیں۔ اس طرح کی ویڈیو بنانے کے لیے جو سافٹ وئیر استعمال ہوتا ہے وہ انٹرنیٹ پر عام دستیاب ہے۔
اس کے ڈویلپر کے مطابق اس سافٹ وئیر کو ایک ماہ میں ایک لاکھ بار سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔ اس سافٹ وئیر کو بھی دو بار اپ ڈیٹ کیا جا چکا ہے۔ا س کے ورژن 2 کا سائز 1.8 جی بی ہے۔
اس سافٹ وئیر سے کسی بھی طرح کی ویڈیوز میں کسی دوسرے کے چہرے کو بہت ہی آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔کسی بھی شخص کی جعلی ویڈیو بنانے کے لیے سافٹ وئیر استعمال کرنے والے کو اس کی ویڈیوز کی بھی ضرورت نہیں۔
جس شخص کی جعلی ویڈیو بنانی ہو، اس کی چند تصویریں مل جائیں تو ان سے کسی بھی قسم کی ویڈیو بنائی جا سکتی ہے۔ویڈیو بنانے والے کو کرنا صرف یہ ہے کہ سافٹ وئیر کو چند تصاویر اور ایک ویڈیو دے ، سافٹ وئیر خود ہی ان تصاویر کو ویڈیو میں موجود شخص کے چہرے سے بدل دےگا۔
اس سافٹ وئیر سے بننے والی ویڈیو کا معیار حقیقت سے قریب تر ہوگا۔ فی الحال اس سافٹ وئیر کو ایک چھوٹی سی ویڈیو بنانے میں 40 گھنٹے تک لگ سکتے ہیں۔
یہ سافٹ وئیر وقت کے ساتھ ساتھ خود سیکھ سیکھ کر خود کو بہتر بناتا ہے، اس لیے کچھ عرصے میں جہاں اس کا رزلٹ بہتر ہوگا وہیں ویڈیو بنانے کا ٹائم بھی کم ہوجائے گا۔
پہلے خیال تھا کہ اس قسم کی ٹیکنالوجی کو عام ہونے میں ایک یا دو سال لگ سکتے ہیں لیکن یہ ایک ماہ میں ہی عام ہوگئی ہے۔
Urdu Khabrain
Pakistan Sci-Tech News, Pakistani News, Sci-Tech Khabrain, Sci-Tech News, Sci-Tech Urdu News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Sci-Tech News, سائنس و ٹیکنالوجی
No comments:
Post a Comment