https://goo.gl/p3HLhL
اسلام آباد : ماہرین صحت نے عوام سے کہا ہے کہ موسمی فلو قابل علاج مرض ہے، اس مرض کے حوالے سے زیادہ تشویش درست نہیں ہے تاہم احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس مرض کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق موسمی فلو جسے پہلے سوائن فلو بھی کہا جاتا تھا، ایک قابل علاج مرض ہے اس کا وائرس متاثرہ شخص کے کھانے یا چھینکنے کی وجہ سے آلودہ ذرات کے ذریعے پھیلتا ہے۔موثر احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس مرض کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے اس مرض کی علامات بخار، کھانسی، سردرد، پٹھوں اور جوڑوں میں درد، گلا خراب ہونا، ناک کے بہنے سے ظاہر ہوتی ہے۔ سانس میں دشواری، سینے میں درد، الٹیاں اور دست اس مرض کی پیچیدہ علامات میں سے ہیں۔وزارت صحت کے حکام نے عوام سے کہا ہے کہ موسمی فلو سے بروقت بچاؤ کے لئے 5سال سے کم عمر بچوں، 65 سال سے زائد عمر افراد، حاملہ خواتین اور کسی بھی بیماری کی وجہ سے قوت مدافعت میں کمی کے شکار افراد فلو ویکسین لگوائیں، اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لئے کھانسنے اور چھینکتے وقت رومال یا ٹشو پیپر سے ڈھانپ لینا، ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔استعمال کے فوراً بعد ماسک یا ٹشو پیپر کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگالیں اور اپنے ہاتھ کو ہروقت صاف رکھیں۔ اس طرح اس مرض کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے۔ اگر مرض پیچیدہ صورت حال اختیار کر جائے تو فوراً اپنے معالج سے رجوع کریں۔
Urdu Khabrain
Health Khabrain, Health News, Health Urdu News, Pakistan Health News, Pakistani News, Top Health News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Health News, صحت
Monday, 19 February 2018
موسمی فلو قابل علاج مرض ہے، ماہرین صحت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment