https://goo.gl/TFxXM2
ماہرین ایک عرصے سے جانتے ہیں کہ بارشوں کے بعد گھروں اور درختوں پر منڈلاتی ہوئی بھنبھری (ڈریگن فلائی) کے پروں میں کوئی بیکٹیریا نہیں آسکتا لیکن ماہرین نے ایک عرصے بعد اس کا اصل راز دریافت کرلیا۔س سے قبل اس کیڑے کے پروں کے متعلق جو بھی تحقیق ہوئی وہ ناکام اس لیے ہوئی کہ بھنبھری کے پر بہت نازک ہوتے ہیں اور خردبین کی تیز روشنی سے تباہ ہوجاتے ہیں۔
اس کے لیے کوئنز لینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (کیویوٹی) کے ماہرین نے ایک خاص ٹیکنالوجی کے ذریعے ان پروں کی تصاویر لی ہیں۔
اس سے ظاہر ہوا ہے کہ بھنبھری کے پروں پر 10 ارب باریک ترین ابھار ہوتے ہیں جو بیکٹیریا کو تہس نہس کردیتے ہیں۔کیو یو ٹی کے محقق ڈاکٹر چٹورنگا بنڈارا نے بتایا کہ بھنبھری کے پر کو دیکھتے ہوئے ہم ایسے مٹیریلز بناسکیں گے جو ہر قسم کے بیکٹیریا سے پاک ہوں تاکہ انہیں طبی کاموں میں استعمال کیا جاسکے۔
ان کے مطابق قدرتی نظام میں نینو اسٹرکچرز اور بیکٹیریا کے درمیان تعلق کو سمجھنے اور سطح کی نئی ڈیزائننگ میں مدد ملے گی۔
ماہرین نے وینڈرنگ پرچر نامی بھنبھری کے پروں کا انتخاب کیا ہے جسے سمجھ کر بہتر آلات اور ٹولز تیار کرنا ممکن ہوگا۔
اسی طرح ایک کیڑے سکیڈا کے پروں پر بھی اربوں نوک دار ابھار ہوتے ہیں جو باریک دیوار والے بیکٹیریا کو چھید کر مار دیتے ہیں۔ سکیڈا سے متاثر ہوکر انسانی آنکھ کے لیے لینس اور شمسی سیل بھی تیار کیے جارہے ہیں۔
کیو یو ٹی کی ایک اور ماہر ڈاکٹر اینالینا وولف کہتی ہیں کہ فطرت کے کارخانے میں حیرت انگیز حقائق موجود ہیں جن میں سے ڈریگن فلائی کے پر بھی جو اینٹی بیکٹیریا خواص رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر اینالینا وولف نے بتایا کہ اس کے لیے ہم نے ایک خاص خردبین استعمال کی ہے جس کی اونچائی دو میٹر اور چوڑائی بھی دومیٹر ہے اس کے بعد ہم اسی خردبین سے مختلف مٹیریلز سے اتنے ہی چھوٹے روبوٹ بناسکتے ہیں جو پانی کے ایک قطرے میں 64 ارب کی تعداد میں سما سکتے ہیں۔ ان کا استعمال ہمارے تصورات سے بھی ماورا ہوگا۔
Urdu Khabrain
Pakistan Sci-Tech News, Pakistani News, Sci-Tech Khabrain, Sci-Tech News, Sci-Tech Urdu News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Sci-Tech News, سائنس و ٹیکنالوجی
No comments:
Post a Comment